LIVE
Loading Breaking News...

رِیفارم یو کے کی پناہ گزینوں کے خلاف فوجی آپریشن کی تجویز

News Image
برطانوی سیاسی جماعت رِیفارم یو کے نے ملک میں غیر قانونی پناہ گزینوں کی آمد کو روکنے کے لیے ایک سخت فوجی قیادت میں آپریشن تجویز کیا ہے۔ اس تجویز کا مقصد سرحدوں پر سیکیورٹی کو مزید سخت کرنا اور امیگریشن کے معاملات پر قابو پانا ہے۔
برطانیہ کی سیاسی جماعت رِیفارم یو کے نے ملک میں غیر قانونی تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی آمد کو مکمل طور پر روکنے کے لیے ایک متنازعہ اور سخت گیر لائحہ عمل پیش کیا ہے۔ اس نئی تجویز کے مطابق، برطانوی سرحدوں پر پناہ گزینوں کی کشتیوں اور غیر قانونی داخلے کو روکنے کے لیے باقاعدہ طور پر فوجی قیادت میں ایک خصوصی آپریشن چلایا جانا چاہیے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ سول انتظامیہ اس مسئلے سے نمٹنے میں ناکام ہو چکی ہے اور اب قومی سلامتی کے پیش نظر فوج کو اس معاملے میں براہ راست مداخلت کرنی چاہیے۔ تجویز کے تحت، برطانوی بحریہ اور دیگر عسکری اداروں کو سمندری حدود میں گشت بڑھانے اور کسی بھی غیر قانونی کشتی کو واپس دھکیلنے یا حراست میں لینے کے اختیارات دیے جائیں گے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور پناہ گزینوں کے بوجھ کی وجہ سے بنیادی عوامی خدمات پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جن میں صحت، تعلیم اور رہائش کے شعبے سرفہرست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرحدوں کی موثر نگہبانی اور غیر قانونی نقل و حرکت پر قابو پانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی حریفوں نے اس تجویز پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پناہ کے متلاشی افراد کے ساتھ انسانی بنیادوں پر سلوک کیا جانا چاہیے اور عسکری طاقت کا استعمال بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کے منافی ہے۔ ناقدین کا یہ بھی ماننا ہے کہ فوجی آپریشن سے یہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے اور اس سے انسانی المیے جنم لے سکتے ہیں۔ رِیفارم یو کے کی اس تجویز نے برطانوی سیاست میں ایک بار پھر امیگریشن کے دیرینہ مسئلے کو گرم کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بحث کے پارلیمنٹ اور عوام کے درمیان مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے، کیونکہ ایک طرف سخت گیر سیکیورٹی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف انسانی ہمدردی کے تقاضے بھی سامنے رکھے جا رہے ہیں۔