Politics
نعیم کا حکومت سے آئی پی پیز معاہدے منسوخ کرنے کا مطالبہ اور 7 اگست کو احتجاج کی دھمکی
نعیم نے حکومت کو وارننگ دی ہے کہ بجلی کے بلوں پر عائد لیوی فی الفور ختم کی جائے اور آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے متنازعہ معاہدے منسوخ کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات نہ مانے گئے تو 7 اگست کو پورے ملک میں شدید احتجاج کیا جائے گا۔
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی کے ہوشربا بلوں کے خلاف سیاسی و عوامی حلقوں کی طرف سے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں نعیم نے حکومت کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عوام پر ڈالی جانے والا اضافی بوجھ فوری طور پر کم کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں پر عائد کردہ ظالمانہ لیوی کو فی الفور ختم کیا جائے اور انرجی سیکٹر میں کام کرنے والی نجی پاور پروڈیوسرز یعنی آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے تمام متنازعہ معاہدے منسوخ کیے جائیں۔
نعیم نے واضح کیا کہ موجودہ معاشی حالات میں عام آدمی کے لیے بھاری بھرکم بجلی کے بل ادا کرنا ناممکن ہو چکا ہے، اور حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر مقررہ وقت تک ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے اور عوام کو ریلیف فراہم نہ کیا گیا، تو 7 اگست کو ملک بھر میں بھرپور اور احتجاجی لہر دوڑائی جائے گی جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کا معاملہ طویل عرصے سے پاکستان کے معاشی بحران کا ایک بڑا سبب بنا ہوا ہے، جس پر عوام اور تاجر برادری میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس طرح کے بیانات اور دھمکیاں حکومت پر دباؤ بڑھانے کا باعث بن رہی ہیں تاکہ بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے کوئی پائیدار لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس تازہ وارننگ کے بعد کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے اور آیا 7 اگست سے پہلے عوام کو کوئی ریلیف مل پاتا ہے یا نہیںمستقبل کے سیاسی منظر نامے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔