Pakistan
تورخم بارڈر بندش: خیبر میں احتجاج اور دھرنے کی دھمکی
پاکستان کے ضلع خیبر میں تورخم بارڈر کی طویل بندش کے خلاف مقامی قبائلیوں اور تاجروں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین نے مطالبات پورے نہ ہونے پر اہم شاہراہ پر دھرنا دینے کی دھمکی دی ہے۔
پاکستان کے قبائلی ضلع خیبر میں پاک افغان سرحد پر واقع اہم تجارتی گزرگاہ تورخم بارڈر کی طویل بندش کے خلاف مقامی قبائلی عمائدین، تاجروں اور عوام کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ سرحد کی مسلسل بندش کی وجہ سے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو شدید دھکا لگا ہے بلکہ مقامی معیشت تباہ ہو چکی ہے اور روزگار کے ذرائع بھی ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ احتجاجی مظاہرے کے دوران شرکاء نے حکومت اور متعلقہ حکام سے فوری طور پر بارڈر کو تمام قسم کی آمدورفت کے لیے کھولنے کا پرزور مطالبہ کیا۔مظاہرین نے اس بات پر بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا کہ بارڈر بند رہنے کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والے مسافروں، مریضوں اور روزگار کے سلسلے میں سرحد پار جانے والے مزدوروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دونوں طرف کے تجارتی ایوانوں اور بارڈر چیمبرز نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ پاک افغان کراسنگز کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس بندش سے ہزاروں ٹن خراب ہونے والی اشیاء سرحد کے دونوں جانب پھنسی ہوئی ہیں جس سے تاجروں کو اربوں روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔مظاہرے کے اختتام پر قبائلی عمائدین نے انتظامیہ کو واضح انتباہ جاری کیا کہ اگر تورخم بارڈر کو فوری طور پر تجارت اور عام مسافروں کے لیے نہ کھولا گیا تو وہ اہم شاہراہ کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر کے دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر کی طویل بندش اب ناقابل برداشت ہو چکی ہے اور حکام کو اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے فوری اور عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ خطے میں جاری معاشی بحران کا خاتمہ ہو سکے۔