World
جنوبی ایشیا میں آبی بحران، پانی کی چوری اور دریاؤں کی آلودگی پر تشویشناک رپورٹ
خطے میں پانی کی قلت، دریاؤں کے آلودہ ہونے اور آبی وسائل پر بڑھتے ہوئے تنازعات نے جنوبی ایشیا کی سٹریٹجک صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سندھ طاس معاہدے اور آبی بالادستی کے حوالے سے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
جنوبی ایشیا میں پانی کا بحران دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے جہاں پانی کی چوری اور دریاؤں کے آلودہ ہونے کے مسائل نے خطے میں زرعی تباہی اور معاشی بدحالی کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کا یہ چکر خطے کے غریب کسانوں کو قرضوں اور غربت کے ایک ایسے دلدل میں دھکیل رہا ہے جہاں سے نکلنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ پانی جیسے بنیادی انسانی حق کو سیاست اور جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔
دوسری جانب، آبی وسائل اور جغرافیائی سیاسی استحکام کے حوالے سے کی جانے والی مختلف تحقیقی رپورٹس میں اس امر کی نشان دہی کی گئی ہے کہ بالائی اور زیریں riparian ممالک کے درمیان کشیدگی خطے کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ سندھ طاس معاہدے اور اس کی معطلی یا نظرثانی کے مطالبات نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سفارتی محاذ آرائی کو مزید تیز کر دیا ہے۔ بھارتی سفارتی ذرائع اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس معاہدے پر کی جانے والی بیان بازی نے آبی سلامتی کے سوالات کو دوبارہ سر اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔
ماہر ماحولیات اور زرعی ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر مشترکہ حکمت عملی وضع نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں خشک سالی اور پینے کے صاف پانی کی قلت سنگین انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔ دریاؤں میں صنعتی اور شہری آلودگی کا بڑھتا ہوا تناسب آبی حیات کے ساتھ ساتھ زرعی زمینوں کو بھی بنجر بنا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت پانی کے منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ خطے کے کروڑوں لوگوں کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔