Sports
بھارتی عدالت کا سابق ریسلنگ چیف کو جنسی ہراسانی کیس میں بری کرنے کا فیصلہ
بھارتی عدالت کی جانب سے ریسلنگ فیڈریشن کے سابق سربراہ کو جنسی ہراسانی کے مقدمے میں بری کیے جانے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اس متنازع فیصلے کے بعد ملک کی سرفہرست خاتون پہلوانوں نے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
نئی دہلی: بھارتی عدالت کی جانب سے ریسلنگ فیڈریشن کے سابق سربراہ کو جنسی ہراسانی کے ایک ہائی پروفائل مقدمے میں تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ عدالت کے اس متنازع فیصلے نے ملک اور دنیا بھر میں کھیلوں کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ دی ہے، بالخصوص خواتین کھلاڑیوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سابق ریسلنگ چیف پر کئی نامور خاتون پہلوانوں نے سنگین الزامات عائد کیے تھے جن کی تحقیقات کے لیے طویل قانونی جنگ لڑی گئی۔
فیصلہ سامنے آنے کے بعد بھارتی ریسلنگ کی دنیا میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ملک کی سرفہرست خاتون پہلوانوں، جنہوں نے اس تحریک میں پیش پیش ہو کر آواز اٹھائی تھی، نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کرنے کا دوٹوک اعلان کیا ہے۔ پہلوانوں کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے حصول تک اپنی قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گی کیونکہ یہ جنگ صرف ان کی ذاتی نہیں بلکہ کھیل سے وابستہ ہر بیٹی کے وقار کی ہے۔
واضح رہے کہ اس معاملے نے గత کچھ مہینوں کے دوران بھارتی سیاست اور کھیلوں کے میدان میں طوفان برپا کر رکھا تھا، جہاں کھلاڑیوں نے سڑکوں پر دھرنے بھی دیے اور اپنے تممے تک واپس کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اب جبکہ عدالت کا ابتدائی فیصلہ آ چکا ہے، قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں اس کیس کی سماعت مزید طویل اور دلچسپ ہو سکتی ہے۔ مبصرین کی نگاہیں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ متاثرہ کھلاڑی آئندہ لائحہ عمل کے تحت کس طرح قانونی چارہ جوئی کو آگے بڑھاتی ہیں۔