LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کی پریکٹس پر پابندی

News Image
پاکستان میں طبی شعبے کے نگراں اداروں نے ایک غیر ملکی ملک سے تعلق رکھنے والے میڈیکل گریجویٹس کے لیے پاکستان میں پریکٹس کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے اندر طبی تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنا اور ضوابط کو سخت بنانا ہے۔
پاکستان میں طبی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور ضابطہ کار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے، جس کے تحت ایک مخصوص ملک سے تعلق رکھنے والے میڈیکل کے طلباء پر پاکستان کے اندر طب کی پریکٹس کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ متعلقہ طبی اداروں کی جانب سے یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے کہ ملک میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر اعلیٰ معیار کے حامل پیشہ ور افراد ہی خدمات انجام دیں۔ اس فیصلے سے ان طلبا پر براہ راست اثر پڑے گا جنہوں نے مذکورہ ملک سے اپنی طبی تعلیم حاصل کی ہے اور وہ پاکستان میں اپنے کیریئر کا آغاز کرنے کے خواہشمند تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے ڈگری حاصل کرنے والے تمام افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان کے مقامی قوانین اور اہلیت کے طے کردہ معیار پر پورا اتریں۔ اس پابندی کے نفاذ سے پہلے تمام متعلقہ پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی قانونی خلا کا استحصال نہ ہو۔ دوسری جانب، اس فیصلے پر طبی حلقوں اور طلباء کی طرف سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ قدم مقامی سطح پر تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے حقوق کے تحفظ اور معیار کی پاسداری کے لیے ضروری تھا، جبکہ بعض حلقے اس کے نفاذ کے طریقہ کار پر بحث کر رہے ہیں۔ متعلقہ اداروں کی طرف سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وہ تمام بین الاقوامی ڈگریوں کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید شفاف بنائیں گے تاکہ صرف مستند اور باقاعدہ تسلیم شدہ اداروں کے فارغ التحصیل افراد کو ہی پاکستان میں پریکٹس کرنے کی اجازت دی جا سکے۔