Business
انڈونیشیا مائننگ سیکٹر: مقامی کردار بڑھانے کا مطالبہ
انڈونیشیا کے وزیر توانائی اور معدنی وسائل بہلیل لاہادالیہ نے معدنیات کے انتظام میں مقامی کمیونٹیز کی زیادہ شمولیت کا مطالبہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مقامی لوگوں کو ملک کے قدرتی وسائل سے براہ راست معاشی فوائد حاصل ہوں۔
انڈونیشیا کے وزیر توانائی اور معدنی وسائل بہلیل لاہادالیہ نے کہا ہے کہ ملک کے معدنیاتی شعبے میں مقامی عوام اور کمیونٹیز کا کردار مزید بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کان کنی کے روایتی طریقوں میں اصلاحات لائی جائیں تاکہ عام لوگوں کو اس سے براہ راست معاشی فوائد مل سکیں۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت ملک بھر میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے نئے لائحہ عمل تیار کر رہی ہے۔ وزیر موصوف نے پالمبانگ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑی کان کنی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ مقامی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بھی مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں تاکہ علاقائی سطح پر خوشحالی آ سکے۔ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ قدرتی وسائل کی دولت صرف چند بڑے اداروں تک محدود نہ رہے بلکہ اس کا ثمر عام شہریوں تک بھی پہنچے۔ اس پالیسی کے تحت مقامی لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ وزارت توانائی اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی آبادی کو ان کے حقوق دیے جائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے انڈونیشیا کے پسماندہ علاقوں میں ترقی کی رفتار تیز ہوگی اور حکومت کو بھی عوامی سطح پر پذیرائی ملے گی۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید عملی اقدامات کا اعلان متوقع ہے جن سے کان کنی کے شعبے میں شفافیت کو بھی فروغ ملے گا۔