LIVE
Loading Breaking News...

رچرڈ ویگنر فیسٹیول میں اے آئی اسٹیجنگ پر ناظرین کے شکوک

News Image
جرمنی کے شہر بائرائوت میں ہونے والے سالانہ رچرڈ ویگنر فیسٹیول کے دوران مصنوعی ذہانت کے استعمال سے تیار کردہ اسٹیجنگ کو ناظرین کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نایاب تجربے نے تقریب میں شریک شائقین کو الجھن کا شکار کر دیا جس پر انہوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
جرمنی کے جنوب مشرقی شہر بائرائوت میں منعقد ہونے والے سالانہ اور دنیا بھر میں مشہور رچرڈ ویگنر فیسٹیول میں اس بار ایک ایسا منفرد اور حیرت انگیز تجربہ کیا گیا جس نے شائقین اور مبصرین کو حیرت میں ڈال دیا۔ فیسٹیول کے دوران تھیٹر اور پرفارمنس کی اسٹیجنگ کے لیے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی مدد لی گئی تھی تاکہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر کچھ نیا پیش کیا جا سکے۔ تاہم، یہ تجربہ توقعات کے برعکس ناظرین کو زیادہ پسند نہیں آیا اور ہال میں موجود شائقین کی جانب سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق جب اے آئی کی مدد سے تیار کردہ مناظر اور اسٹیج کی ترتیب کو پیش کیا گیا تو وہاں موجود تماشائیوں میں شدید الجھن پھیل گئی۔ ناظرین کا کہنا تھا کہ آرٹ اور موسیقی کی اس تاریخی محفل میں مصنوعی ذہانت کا یہ دخل روایتی روح کے ساتھ ہم آہنگ نہیں تھا اور اس سے پرفارمنس کا اصل حسن متاثر ہوا۔ اسی ناگواری کے اظہار کے طور پر ہال میں موجود کچھ ناظرین کی جانب سے بوئنگ (booing) کی گئی، جو اس فیسٹیول کی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ مانا جا رہا ہے۔ رچرڈ ویگنر فیسٹیول اپنی کلاسیکی موسیقی اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے پوری دنیا میں منفرد مقام رکھتا ہے، جہاں دنیا بھر سے فن کے متوالے شرکت کے لیے آتے ہیں۔ آرگنائزرز کی جانب سے اس بار جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی کو فن کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ اے آئی تخلیقی شعبوں میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن اس پہلے بڑے تجربے کے نتائج نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ روایتی فن کے پرستار ابھی جدید ڈیجیٹل تبدیلیوں کو کھلے دل سے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر کے آرٹ اور ٹیکنالوجی کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا فنونِ لطیفہ جیسے حساس شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال درست ہے یا نہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے، انسانی تخیل، جذبات اور فنکارانہ روح کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔ دوسری جانب، منتظمین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تجربات مستقبل کی سمت طے کرنے میں مدد دیتے ہیں اور وہ آنے والے وقتوں میں اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آرٹ اور ٹیکنالوجی کا توازن کیسے قائم رکھا جا سکتا ہے۔