Technology
امریکہ میں زرعی سولر پینلز اور بیروں کی کاشت کا انقلاب
امریکہ کی ایک ریاست میں کھیتوں کے اوپر نصب سولر پینلز نے نہ صرف بجلی پیدا کی بلکہ ان کے سائے میں اگنے والے بیر زیادہ میٹھے اور رسیلے ثابت ہوئے۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جدید طریقہ کار امریکی زراعت کا مستقبل بدل سکتا ہے۔
امریکہ کی ریاست میساچوسٹس کے ایک فارم نے زراعت اور شمسی توانائی کے امتزاج کی ایک بہترین مثال پیش کی ہے جہاں کھیتوں کے اوپر سینکڑوں سولر پینلز نصب کیے گئے ہیں۔ اس انوکھے پروجیکٹ کے تحت بیروں کے کھیتوں پر آٹھ سو बتیس (832) سولر پینلز لگائے گئے ہیں جو ایک طرف تو صاف ستھری بجلی پیدا کر رہے ہیں اور دوسری طرف فصل کو براہ راست دھوپ سے بچا کر ایک قدرتی سایہ فراہم کرتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کو زرعی توانائی یا ایگری وولٹیکس کا نام دیا گیا ہے، جو دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے۔
اس منصوبے کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے ہیں کیونکہ ان بلند و بالا سولر پینلز کے نیچے بننے والا ٹھنڈا مائیکرو کلائمیٹ زمین کی نمی کو برقرار رکھنے میں انتہائی معاون ثابت ہوا۔ عام طور پر زیادہ گرمی اور شدید دھوپ فصلوں کی نمی کو قبل از وقت ختم کر دیتی ہے، لیکن پینلز کے سائے تلے پودوں کو متوازن درجہ حرارت ملا۔ ماہرینِ زراعت کا کہنا ہے کہ اس قدرتی عمل کی بدولت پودوں کو پانی کا تناؤ کم جھیلنا پڑا اور وہ زیادہ بہتر طریقے سے اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے میں کامیاب رہے۔
اس کے نتیجے میں ان پودوں پر اگنے والے بیر نہ صرف توقع سے زیادہ بہتر معیار کے نکلے بلکہ وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ میٹھے اور رسیلے بھی پائے گئے۔ فصل کے اس شاندار معیار نے مقامی کسانوں اور زرعی سائنسدانوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے کیونکہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں یہ فصل زیادہ صحت مند اور ذائقہ دار تھی۔ یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ زمین کا استعمال ایک ہی وقت میں بجلی کی پیداوار اور زرعی پیداوار دونوں کے لیے مؤثر طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ طریقہ کار مستقبل میں امریکی زراعت کا نقشہ بدل سکتا ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں شدید گرمی اور پانی کی قلت کا سامنا رہتا ہے۔ جب کسان ایک ہی زمین سے دوہری آمدنی حاصل کرنے کے قابل ہوں گے تو اس سے نہ صرف خوراک کی پیداوار بہتر ہوگی بلکہ ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔ اس کامیاب تجربے کے بعد اب ملک کے دیگر حصوں میں بھی اس ماڈل کو اپنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔