Technology
اے آئی ای ٹی ایفز کی امریکی مارکیٹ میں دھوم، ٹریڈنگ حجم 19 فیصد ہو گیا
مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے منسلک ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ای ٹی ایفز) نے امریکی مارکیٹ میں تاریخ رقم کرتے ہوئے مجموعی ٹریڈنگ حجم کا 19 فیصد حصہ حاصل کر لیا ہے۔ اس رجحان سے سرمایہ کاری کے رحجانات میں نمایاں تبدیلی اور ٹیک سیکٹر پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
امریکی مالیاتی منڈیوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ای ٹی ایفز) نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اے آئی سے وابستہ ان فنڈز کا حجم اب تمام امریکی ای ٹی ایف ٹریڈنگ کے مجموعی حجم کا ریکارڈ 19 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ سنگ میل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سرمایہ کار اب روایتی شعبوں کے مقابلے میں ٹیکنالوجی اور بالخصوص مصنوعی ذہانت کے شعبے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں، جس سے گلوبل فنانشل مارکیٹس میں ایک نیا توازن قائم ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، مارکیٹ کے اندر سرمایہ کاری کا یہ بڑھتا ہوا رجحان واضح تبدیلی کی نشان دہی کرتا ہے۔ جب سرمایہ کار بڑی تعداد میں اپنا رخ مصنوعی ذہانت کے پروجیکٹس اور کمپنیوں کی طرف موڑتے ہیں، تو اس سے نہ صرف متعلقہ تکنیکی سیکٹرز کو بے پناہ فروغ ملتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں غیر یقینی صورت حال اور اتار چڑھاؤ میں بھی اضافے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اے آئی کے شعبے میں ہونے والی تیز رفتار ترقی اور اس میں سرمائے کی اندھا دھند ریل پیل سے مالیاتی تجزیہ کاروں میں مخلوط جذبات پائے جاتے ہیں۔ ایک طرف جہاں اسے ٹیکنالوجی کی دنیا کا مستقبل قرار دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف مارکیٹ کے مبصرین اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ اس طرح کے ہیوی ٹریڈنگ والیومز کی وجہ سے قلیل مدتی مارکیٹ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل قریب میں بھی مصنوعی ذہانت کے حامل ای ٹی ایفز امریکی اور عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی اولین ترجیح بنے رہیں گے۔ تاہم، ریگولیٹرز اور سرمایہ کاروں دونوں کے لیے یہ وقت احتیاط کا تقاضا کرتا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ مارکیٹ شاک یا اچانک تبدیلی سے بچا جا سکے، کیونکہ اتنے بڑے پیمانے پر فنڈز کی نقل و حرکت براہ راست پورے ٹیک سیکٹر کی سمت کا تعین کرتی ہے۔