LIVE
Loading Breaking News...

نائب وزیراعظم اور ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو

News Image
پاکستان کے نائب وزیراعظم نے ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کے استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے رابطے مزید مضبوط کرنے پر زور دیا۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز اردو) پاکستان کے نائب وزیراعظم اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ایک اہم رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی حالیہ صورتحال اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس گفتگو کا بنیادی مقصد خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینا اور دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینا ہے۔ اس موقع پر خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ہونے والے رابطوں اور سفارتی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس دوران خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ کو جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی باضابطہ دعوت بھی دی گئی ہے تاکہ دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔ حالیہ دنوں میں ایران کے وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ اور خطے کے کئی دیگرممالک کے اعلیٰ حکام سے بھی رابطے کیے ہیں جن میں سعودی عرب اور عراق کے رہنما شامل ہیں۔ ان تمام رابطوں کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کا پرامن حل تلاش کرنا اور باہمی تعاون کے ذریعے سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے بھی ایران کو واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح پر ہونے والے یہ رابطے انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ دونوں ممالک خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان سفارتی کوششوں سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ خطے کے غیریقینی حالات میں بھی مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سیکورٹی کے شعبوں میں تعاون مزید مستحکم ہوگا۔ پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں اور موجودہ علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کی قیادت باہمی مشاورت کے عمل کو مسلسل جاری رکھنے پر متفق نظر آتی ہے۔