LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کے غزہ امن منصوبے پر تحفظات، حملے جاری

News Image
اسرائیلی حکام نے غزہ کے نئے امن منصوبے پر اپنے تحفظات سے امریکہ کو آگاہ کر دیا ہے جبکہ خطے میں فضائی اور زمینی حملے تاحال جاری ہیں۔ دوسری جانب حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی انخلاء کے معاملے پر بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں تیز ہو چکی ہیں۔
اسرائیلی حکام نے غزہ کے حوالے سے پیش کیے جانے والے نئے امن منصوبے پر اپنے شدید تحفظات کا باضابطہ طور پر امریکہ سے اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک حماس کے مکمل اور حقیقی طور پر غیر مسلح ہونے کی ضمانت نہیں ملتی، اسرائیلی افواج غزہ سے مکمل انخلاء نہیں کریں گی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر جنگ بندی اور مستقل امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ امریکہ اور دیگر بین الاقوامی ثالث اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ دونوں فریقوں کے درمیان ایک ایسا معاہدہ طے پائے جو خطے میں جاری خونریز کشیدگی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکے۔ تاہم، فریقین کے درمیان بنیادی نکات پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ ایک طرف جہاں امن معاہدے کے خُطوط پر بات چیت کی جارہی ہے، وہیں دوسری طرف غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے تاحال جاری ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور انسانی بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں کی طرف سے بھی اس امن منصوبے پر تبصرے سامنے آئے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آیا اسرائیل اور حماس دونوں اس کے سخت شرائط پر رضامند ہوتے ہیں یا نہیں۔ حماس کے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیلی فوج کی واپسی کی ترتیب کے بارے میں اب بھی ابہام پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے دیرپا امن کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر کشیدگی میں کمی لائیں اور سیاسی مذاکرات کو موقع دیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر امدادی ادارے بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جنگ بندی کے ساتھ ساتھ غزہ کے محاصرہ زدہ علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی کو بلا تعطل جاری رکھا جائے تاکہ وہاں موجود لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس امن منصوبے کے حوالے سے مزید اہم سفارتی ملاقاتیں متوقع ہیں۔