Business
امریکی مینوفیکچرنگ سیکٹر میں 2022 کے بعد سے نمایاں اضافہ
امریکہ کا مینوفیکچرنگ سیکٹر جولائی کے دوران مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کی بدولت چار سال کی بلند ترین رفتار سے پھیلا ہے۔ آئی ایس ایم مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (PMI) توقعات سے بہتر ہو کر 55.6 پر پہنچ گیا ہے۔
امریکہ میں مینوفیکچرنگ کی سرگرمیوں میں جولائی کے مہینے کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ سال 2022 کے بعد سے اب تک کی سب سے مضبوط شرح ہے۔ حالیہ معاشی اعداد و شمار کے مطابق، امریکی صنعتی شعبے کی یہ ترقی توقعات سے بھی زیادہ مضبوط رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ہونے والا غیر معمولی تیزی کا رجحان ہے۔ اس مثبت پیشرفت نے معاشی تجزیہ کاروں اور سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔
معاشی رپورٹس کے مطابق، انسٹی ٹیوٹ فار سپلائی مینجمنٹ (ISM) کا مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (PMI) جولائی میں بڑھ کر 55.6 پر آ گیا ہے، جبکہ ماہرین کی توقعات 54 کی تھیں۔ اس اضافے کو امریکی مینوفیکچررز کی جانب سے گذشتہ چار سالوں کے دوران سب سے بڑی ترقی قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے وابستہ ٹیکنالوجی اور آلات کی بڑھتی ہوئی مانگ نے اس شعبے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کی وجہ سے فیکٹریوں میں پیداواری سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
تاہم، اس مجموعی اور مضبوط پھیلاؤ کے باوجود بعض معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تمام اشاریے یکساں طور پر مثبت نہیں ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ اعداد و شمار پیداوار اور سیلز میں نسبتاً نرم پڑتے ہوئے رجحانات کو بھی چھپاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی جیسے عوامل بھی بین الاقوامی منڈیوں میں زیرِ بحث ہیں، جو اس مجموعی معاشی منظر نامے پر اپنے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
حکومت اور کاروباری حلقے اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ صنعتی تیزی طویل عرصے تک برقرار رہ سکے گی یا نہیں۔ آنے والے مہینوں میں افراط زر کے اعداد و شمار اور شرح سود کے فیصلوں کا بھی اس مینوفیکچرنگ گروتھ پر گہرا اثر پڑے گا، جس سے یہ طے ہوگا کہ امریکی معیشت کس سمت میں گامزن ہے۔