LIVE
Loading Breaking News...

گوگل اے آئی ٹول کی معطلی اور الفابیٹ کے حصص کی صورتحال

News Image
گوگل نے مصنوعی ذہانت پر مبنی نیا ارتھ ٹول غلط معلومات اور ڈیپ فیک کے خدشات کے باعث معطل کر دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کے حصص سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کی جانب سے حال ہی میں متعارف کروائے جانے والے مصنوعی ذہانت کے ایک نئے سیٹلائٹ ٹول کو متنازعہ قرار دیے جانے کے بعد عجلت میں واپس لے لیا گیا ہے۔ اس ناخوشگوار واقعے نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بار پھر مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال اور حفاظتی اقدامات پر بحث چھڑ دی ہے، جس کے براہ راست اثرات اب حصص مارکیٹ پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ کمپنی کی پیرنٹ تنظیم الفابیٹ (Alphabet) کے حصص اس وقت سرمایہ کاروں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں کیونکہ مارکیٹ ماہرین اس تکنیکی خرابی اور تنقید کے طویل المدتی اثرات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ اس نئے ٹول کا مقصد دنیا بھر میں سیٹلائٹ تصاویر کو جدید مصنوعی ذہانت کی مدد سے تبدیل کرنا اور بہتر بنانا تھا، تاہم محققین اور ماہرین نے اس کے اجرا کے فورا بعد ہی خبردار کر دیا تھا کہ یہ ٹول غلط معلومات پھیلانے اور آسمانی مناظر کے ڈیپ فیک بنانے میں استعمال ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق بی بی سی اور این پی آر سمیت کئی اداروں نے انکشاف کیا تھا کہ یہ ٹول سکیورٹی اور رازداری کے حوالے سے شدید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ ان شدید تنقیدوں اور ممکنہ خطرناک نتائج کے پیش نظر گوگل نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فی الحال اس فیچر کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ اس کی خامیوں پر قابو پایا جا سکے۔ ٹیکنالوجی انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے کمپنیاں جس تیزی سے مصنوعات مارکیٹ میں لا رہی ہیں، اس سے اس طرح کے تکنیکی اور اخلاقی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ گوگل جیسے بڑے ادارے سے اس نوعیت کی غلطی سرزد ہونا سرمایہ کاروں کے لیے تشویشناک ہے، یہی وجہ ہے کہ الفابیٹ کے حصص کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ مارکیٹ کے مبصرین کا ماننا ہے کہ جب تک گوگل اس ٹول کے حوالے سے تسلی بخش سکیورٹی پروٹوکول اور ضابطے واضح نہیں کرتا، تب تک حصص مارکیٹ میں اس معاملے کی بازگشت سنائی دیتی رہے گی۔