LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کے بیانات اور ایران: ایرانی عوام میں جنگ و امن کی بے یقینی

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ اور بات چیت کے حوالے سے بار بار بدلتے ہوئے مؤقف نے ایرانی عوام کو شدید پریشانی اور عدم استحکام میں مبتلا کر دیا ہے۔ لوگ روزمرہ کی زندگی میں بڑھتے ہوئے اقتصادی دباؤ کے ساتھ ساتھ ایک غیر یقینی جنگی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ اور مذاکرات کے حوالے سے وقتاً فوقتاً سامنے آنے والے متضاد اور غیر یقینی بیانات نے ایران کے عام شہریوں کو ذہنی تناؤ اور گہری بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ تہران اور دیگر بڑے شہروں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ واشنگتن کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ ایک طرف جہاں سخت معاشی پابندیوں کی وجہ سے پہلے ہی زندگی اجیرن ہو چکی ہے، وہیں دوسری طرف امریکہ کی جانب سے کبھی فوجی تنازع کی دھمکیاں اور کبھی مذاکرات کی پیشکش اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکی انتظامیہ کی اس آنکھ مچولی کی پالیسی نے ایرانی معیشت پر براہ راست منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس سے عام اشیائے خوردونوش اور بنیادی ضرورت کی چیزیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا ماننا ہے کہ اس غیر یقینی فضا کی وجہ سے کاروبار بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور نوجوان طبقے کے اندر مستقبل کے حوالے سے شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ دوسری جانب، ایرانی حکومت بھی اندرونی اور بیرونی دباؤ کے درمیان گھری ہوئی ہے۔ سرکاری سطح پر اگرچہ کسی بھی دباؤ کے سامنے جھٹنے سے انکار کیا جاتا ہے، لیکن عام لوگ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کا خمیازہ انہیں ہی بھگتنا پڑے گا۔ ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی سفارتی سطح پر حل ہوگی یا بات کسی بڑے فوجی تصادم تک جا پہنچے گی۔ اس تمام صورتحال میں عام ایرانی شہری خود کو سب سے بڑا نقصان اٹھانے والا فریق محسوس کر رہا ہے۔ لوگوں کی روزمرہ کی زندگی اب محض اس بات کے گرد گھومتی ہے کہ اگلی خبر کیا ہوگی۔ جب تک امریکہ اور ایران کے تعلقات میں تناؤ ختم ہو کر کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آتی، ایرانی عوام اسی طرح بے یقینی کے بادلوں تلے زندگی گزارنے پر مجبور رہیں گے۔