World
فلسطین ایکشن اور برطانوی حکومت: ہزاروں مظاہرین گرفتار اور زیر تفتیش
برطانیہ کی جانب سے فلسطین ایکشن کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے یا ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
برطانیہ میں فلسطین کے ححق میں آواز اٹھانے والی سرگرم تنظیم 'فلسطین ایکشن' کو حکومت کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے بعد ملک بھر میں ایک وسیع اور سخت ترین کریک ڈاؤن کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس متنازع فیصلے کے نفاذ کے بعد سے اب تک ہزاروں افراد کو یا تو حراست میں لیا جا چکا ہے یا وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سخت تفتیش کا سامنا کر رہے ہیں۔ برطانوی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملکی سلامتی کو یقینی بنانا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور جنگ مخالف کارکنوں نے اس فیصلے کو اظہارِ رائے کی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران برطانیہ کے مختلف شہروں میں فلسطین کے حق میں اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔ ان مظاہروں میں فلسطین ایکشن کے کارکنان پیش پیش رہے، جنہوں نے اسلحہ بنانے والی کمپنیوں اور ان کارخانوں کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر اسرائیل کو دفاعی سازوسامان فراہم کرتے ہیں۔ ان کارروائیوں کے بعد برطانوی حکومت پر دباؤ بڑھا، جس کے نتیجے میں تنظیم کو کالعدم قرار دینے کا انتہائی قدم اٹھایا گیا۔ پابندی کے نفاذ کے ساتھ ہی پولیس نے ملک بھر میں چھاپے مارنے شروع کر دیے اور تنظیم سے مبینہ تعلق یا اس کی حمایت کرنے والے ہزاروں افراد کو حتحیراست میں لے لیا گیا۔
اس صورتحال نے برطانوی معاشرے میں ایکنئی بحث کو جنم دے دیا ہے جہاں ایک طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ عوامی املاک کو نقصان پہنچانا اور قانون ہاتھ میں لینا ناقابل برداشت ہے، وہیں دوسری طرف سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ پُرامن احتجاج کا حق سلب کرنا جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ قانونی ماہرین بھی اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی گرفتاریاں انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین پر کس طرح اثر انداز ہوں گی۔ دریں اثنا، گرفتار افراد کے لواحقین اور حامیوں کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ اس سخت فیصلے کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکے اور زیر حراست افراد کی فوری رہائی کو یقینی بنایا جا سکے۔