LIVE
Loading Breaking News...

ریاستی پولیس کا نفاذ اور شریعہ کونسل کا موقف

News Image
نائجیریا کی سپریم کونسل فار شریعہ نے ملک میں ریاستی پولیس کے نفاذ سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع تر مشاورت کا مطالبہ کیا ہے۔ کونسل کا ماننا ہے کہ اس قدم سے قومی اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس کے لیے احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔
ابوجا: نائجیریا کی سپریم کونسل فار شریعہ نے ملک میں ریاستی پولیس کے قیام اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم قدم سے قبل تمام متعلقہ فریقین اور عوام کے ساتھ وسیع تر مشاورت کی جائے۔ کونسل کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے انتظامی اور سکیورٹی فیصلوں کے قومی اتحاد اور سالمیت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ریاستی سطح پر پولیس فورس بنانے پر بحث جاری ہے، تاہم ناقدین اور مذہبی و سماجی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ اس کے ممکنہ منفی نتائج سے بچنے کے لیے سنجیدہ مکالمہ ناگزیر ہے۔ سپریم کونسل فار شریعہ کا کہنا ہے کہ جلد بازی میں کیے جانے والے فیصلے ملک میں موجود نسلی اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ کونسل کے رہنماؤں نے زور دیا کہ حکومت کو کسی بھی حتمی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے تمام طبقات کی آراء کو سننا چاہیے تاکہ ایک متوازن اور قابل قبول لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ نائجیریا جیسے کثیر الثقافتی اور متنوع ملک میں داخلی سلامتی کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی اور وسیع اتفاق رائے کی اشد ضرورت ہے۔