LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کل سوئچ بل اور اے آئی سیفٹی قوانین

News Image
امریکی کانگریس میں مصنوعی ذہانت کے خطرناک اور بے قابو ماڈلز کو فوری طور پر بند کرنے کے لیے ایک نیا بل پیش کر دیا گیا ہے۔ اس قانون کا مقصد مستقبل میں اے آئی ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنا اور حکومتی نگرانی کو مؤثر بنانا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دنیا میں جہاں ایک طرف بے پناہ فوائد حاصل ہو رہے ہیں، وہیں اس کے ممکنہ خطرات پر بھی عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ اس تناظر میں امریکی کانگریس کے سامنے ایک ایسا نیا بل پیش کیا گیا ہے جس کے تحت حکومت کو یہ اختیار مل سکتا ہے کہ وہ کسی بھی خطرناک یا بے قابو مصنوعی ذہانت (AI) کے ماڈل کو ہنگامی بنیادوں پر بند کر سکے۔ اگرچہ عام فہم میں 'کل سوئچ' کا تصور کسیسرکاری بنکر میں رکھے ہوئے سرخ بٹن جیسا لگتا ہے، لیکن حقیقت میں پیش کی جانے والی یہ تجاویز اس سے کچھ مختلف اور زیادہ منظم قانونی فریم ورک پر مبنی ہیں۔ اس نئے قانون کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اگر کوئی اے آئی سسٹم اپنی پروگرامنگ یا غیر متوقع صلاحیتوں کی وجہ سے انسانیت یا معاشرے کے لیے خطرہ بن جائے، تو اسے فوری طور پر روکا جا سکے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ماڈلز زیادہ خودمختار ہوتے جا رہے ہیں، ان پر قابو پانے کے لیے اس طرح کے حفاظتی اقدامات وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔ واشنگٹن میں قانون ساز اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کس طرح ٹیکنالوجی کمپنیوں کو جوابدہ بنایا جائے اور ساتھ ہی ان کی جدت طرازی کی صلاحیت کو بھی متاثر نہ ہونے دیا جائے۔ اس مجوزہ بل کے تحت وفاقی اداروں کو ایسے اختیارات مل سکتے ہیں جن کے ذریعے وہ بڑے اے آئی ماڈلز کی تربیت اور تعیناتی کے دوران حفاظتی پروٹوکولز کی جانچ کر سکیں گے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس سے ریگولیٹری دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ حامیوں کا خیال ہے کہ یہ انسانیت کے مفاد میں ایک لازمی قدم ہے۔ دنیا بھر کی بڑی ٹیک کمپنیاں اور محققین اس قانون سازی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کے نتائج آنے والے وقت میں پوری عالمی ٹیکنالوجی انڈسٹری کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔