LIVE
Loading Breaking News...

یوکرینی ڈرون حملہ: بحیرہ اسود کے ساحل پر 7 افراد جاں بحق

News Image
روس کے مطابق بحیرہ اسود کے ایک معروف تفریحی مقام پر یوکرینی ڈرون گرنے سے تین بچوں سمیت سات افراد ہلاک اور چالیس دیگر زخمی ہو گئے۔ اس المناک واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ بحیرہ اسود کے ایک مصروف اور مقبول ترین تفریحی مقام پر یوکرینی ڈرون کے گرنے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک جبکہ چالیس کے قریب دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں معصوم بچے بھی شامل ہیں جنہوں نے اس سیزن میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ ساحل کا رخ کیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سیاحوں کی ایک بڑی تعداد ساحل سمندر پر موجود تھی اور معمول کی سرگرمیوں میں مصروف تھی۔ ڈرون حملے کے بعد علاقے میں شدید بھگدڑ مچ گئی اور خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق گرنے والا ڈرون براہ راست تفریحی ساحل پر جا گرا، جہاں اس کے پھٹنے سے جانی نقصان ہوا۔ مرنے والوں میں تین کم عمر بچے بھی شامل ہیں جن کی ہلاکت پر مقامی سطح پر گہرے صدمے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ زخمی ہونے والے چالیس افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ روس کی وزارتِ دفاع اور مقامی انتظامیہ نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے شہریوں پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین جان بوجھ کر سویلین آبادی اور سیاحتی مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ عام شہریوں میں خوف پھیلایا جا سکے۔ دوسری جانب اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کے مزید شدت اختیار کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں کیونکہ اس قسم کے حملے عام شہریوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے جنگ کے دوران عام شہریوں بالخصوص بچوں کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے جنگ کو ایک خطرناک موڑ پر لے جا رہے ہیں جہاں امن کی بحالی کی کوششیں مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہیں۔ متاثرہ علاقے میں سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں اور واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔