Pakistan
بلاول بھٹو کا مسلم لیگ ن پر تنقید، آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن کو خبردار کیا ہے کہ ان کا الٹی میٹم اور گنتی شروع ہو چکی ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک کو پورے ملک تک پھیلانے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیر کے روز ایک بار پھر مسلم لیگ ن کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اقتدار کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ویڈیو پیغام میں بلاول بھٹو نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی کی عوام کے حقوق کے لیے تحریک اب صرف کشمیر یا گلگت بلتستان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اسے پورے پاکستان میں پھیلایا جائے گا۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں ن لیگ کی جانب سے مبینہ دھاندلی اور پرتشدد ہتھکنڈوں کے استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ یاد رہے کہ مرکز میں دونوں جماعتیں اتحادی ہیں لیکن میرپور اور دیگر حلقوں میں نتائج کے بعد دونوں کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔
بلاول بھٹو نے اپنے ویڈیو پیغامات میں آزاد کشمیر کے عوام کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے تمام تر دھمکیوں، گولیوں اور دھاندلی کے باوجود مقابلہ کیا۔ پی پی پی چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے دوران ان کا ایک کارکن جاں بحق ہوا، ایک رکن قومی اسمبلی زخمی ہوا اور آزاد کشمیر کے قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر پر بھی حملہ کیا گیا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن نے کارکن کی ہلاکت کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دل کے دورے سے مرا اور پی پی پی کا حصہ نہیں تھا۔ بلاول بھٹو نے ان انتخابات کو غیر شفاف، دھاندلی زدہ اور خونریز قرار دیا اور کہا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود ان کی جماعت نے نو نشستیں حاصل کی ہیں اور وہ چوری کیے گئے ووٹ واپس لیں گے۔
علاوہ ازیں، پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مظفرآباد کے حلقوں ایل اے 27 اور ایل اے 28 کے عوام سے اپیل کی کہ وہ پارٹی امیدواروں کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کریں۔ انہوں نے پونچھ ڈویژن کے علاقے باغ میں دس اگست کو ہونے والے انتخابات سے قبل ایک بڑے جلسے کا بھی اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ پیپلز پارٹی میدان چھوڑنے والی نہیں ہے۔ ادھر آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر راولاکوٹ اور تھرار کے علاوہ دیگر تمام حلقوں میں انتخابات کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت سے پولنگ کا عمل شفاف بنایا جائے گا۔