LIVE
Loading Breaking News...

سولر درآمدات کا متبادل: مقامی پیداوار اور آر اینڈ ڈی کی ضرورت

News Image
ملک میں سولر پینلز کی مقامی تیاری کو فروغ دینے کے لیے کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر حکومتی مراعات کے باوجود درآمدات پر انحصار برقرار ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اب تحقیق اور ترقی پر سنجیدگی سے سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں قابل تجدید توانائی بالخصوص شمسی توانائی کی مانگ میں روز بروز نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، تاہم اس بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے زیادہ تر انحصار بیرون ملک سے ہونے والی درآمدات پر ہی ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے مقامی صنعت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کسٹمز ڈیوٹی کے نفاذ، مینوفیکچرنگ کے لیے مختلف مراعات اور منظور شدہ فہرستوں کے ذریعے مقامی اشیا کی طلب پیدا کرنے جیسے اہم پالیسی اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن اس کے باوجود زمینی حقائق توقعات کے مطابق نہیں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ محض درآمدی ڈیوٹیز عائد کرنے سے مقامی انڈسٹری کو دیرپا بنیادوں پر خودمختار نہیں بنایا جا सकता۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تحقیق و ترقی (R&D) کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ جب تک مقامی سطح پر جدید ترین لیبارٹریز اور ریسرچ سینٹرز قائم نہیں کیے جائیں گے، اس وقت تک عالمی معیار کے مطابق سستے اور معیاری سولر پینلز کی تیاری خواب ہی رہے گی۔ اس وقت عالمی منڈی میں سولر ٹیکنالوجی انتہائی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور نئے سیمی کنڈکٹرز اور فوٹو وولٹیک سیلز متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ پاکستانی مینوفیکچررز کو بھی چاہیے کہ وہ عالمیرجحانات سے ہم آہنگ ہوں اور اپنے انجینئرز اور سائنسدانوں کو تحقیق کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں۔ حکومت کو بھی اس ضمن میں نجی شعبے کے ساتھ مل کر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت خصوصی گرانٹس کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ ریسرچ کا عمل تیز ہو سکے۔ آخر میں، یہ بات واضح ہے کہ سولر درآمدات سے جان چھڑانے کا واحد راستہ ایک مضبوط صنعتی پالیسی ہے جو درآمدی متبادل کے ساتھ ساتھ برآمدی صلاحیت کو بھی فروغ دے۔ اگر آج آر اینڈ ڈی میں سرمایہ کاری کی گئی تو آنے والے برسوں میں نہ صرف ملکی زر مبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ پاکستان قابل تجدید توانائی کے آلات تیار کرنے والا ایک اہم علاقائی مرکز بھی بن سکتا ہے۔