Technology
جینسن ہوانگ کا اے آئی اسٹیک اور انجینئرنگ کی ڈگریاں
نیکسورا نیوز کے مطابق، ہیکر نیوز پر جینسن ہوانگ کے مصنوعی ذہانت کے پانچ سطحی اسٹیک کو روایتی انجینئرنگ کی ڈگریوں کے ساتھ کامیابی سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ اس نئے خاکے کا مقصد طلبا کی اس الجھن کو دور کرنا ہے کہ ان کی تعلیم کا موجودہ تکنیکی دور میں کیا مقام بنتا ہے۔
ہیکر نیوز پر ایک دلچسپ تجزیہ پیش کیا گیا ہے جس میں اینڈیا (Nvidia) کے سربراہ جینسن ہوانگ کے مصنوعی ذہانت (AI) کے مشہور پانچ سطحی ماڈل یا اسٹیک کو انجینئرنگ کی مختلف ڈگریوں کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ یہ نیا فریم ورک خاص طور پر ان یونیورسٹی کے طلبا کے لیے تیار کیا گیا ہے جو مسلسل یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ان کی تعلیمی ڈگری اس بدلتے ہوئے تکنیکی منظر نامے میں کہاں فٹ بیٹھتی ہے اور آیا انہیں اب کسی خاص شعبے میں مہارت حاصل کرنی چاہیے یا نہیں؟
جینسن ہوانگ کے اس پانچ تہوں والے اسٹیک میں توانائی (energy)، چپس (chips)، انفراسٹرکچر (infrastructure)، ماڈلز (models) اور ایپلی کیشنز (applications) جیسے بنیادی شعبے شامل ہیں۔ اس تجزیے میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح مختلف انجینئرنگ کے مضامین جیسے کہ الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مکینیکل اور سافٹ ویئر انجینئرنگ ان تمام تہوں میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ توانائی اور چپس کے شعبے ہارڈ ویئر کی بنیاد بناتے ہیں جبکہ ماڈلز اور ایپلی کیشنز سافٹ ویئر اور اے آئی کی اگلی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نقشہ طلبا کو اپنے کیریئر کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے میں مدد دے گا۔ آج کے دور میں جب مصنوعی ذہانت دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے، طلبا کے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہو چکا ہے کہ وہ جس شعبے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، وہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کی زنجیر میں کہاں جڑتا ہے۔ اس سے نہ صرف تعلیمی نظام اور صنعت کے درمیان فاصلہ کم ہوگا بلکہ طلبا کو جدید تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کرنے کا موقع بھی ملے گا۔