World
پین أم کا 74 سال پرانا لاپتہ طیارہ سمندر کی تہہ میں دریافت
تلاش کرنے والی ٹیموں نے 1952 میں گرنے والے پین أم کے کلپر اینڈیور نامی طیارے کا ملبہ پورٹو ریکو کے قریب سمندر کی گہرائی سے ڈھونڈ نکالا ہے۔ اس تاریخی دریافت سے اس پرانی فضائی حادثے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جو اس وقت فضائی سفر کی حفاظت میں تبدیلیوں کا باعث بنی تھی۔
فضائی تاریخ کے ایک اور بڑے معما کا بالاآخر خاتمہ ہو گیا ہے کیونکہ ماہرین کی تلاش کرنے والی ٹیموں نے ستر سال سے زائد عرصے سے لاپتہ پین أم (Pan Am) ایئر لائن کے طیارے کا ملبہ سمندر کی گہرائی سے تلاش کر لیا ہے۔ یہ تاریخی طیارہ جس کا نام کلپر اینڈیور (Clipper Endeavor) تھا، 1952 میں ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو کر سمندر برد ہو گیا تھا اور اس وقت سے اب تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔ اس افسوسناک واقعے نے اس دور میں ایئر لائن کی حفاظتی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیوں کو جنم دیا تھا اور دنیا بھر میں فضائی سفر کے معیارات پر از سر نو غور کیا گیا تھا۔
حالیہ تلاش کے دوران، ماہرین اور بحری غوطہ خوروں نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس طیارے کے باقیات کو پورٹو ریکو کے ساحل سے دور سمندر کی سطح سے تقریبا دو ہزار فٹ نیچے تلاش کیا۔ سمندر کی اس اتنی گہرائی میں ملبے کی موجودگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ حادثہ کس قدر شدید نوعیت کا رہا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک پانی کے اندر رہنے کے باوجود طیارے کے کچھ حصے اب بھی محفوظ حالت میں مل گئے ہیں جن کا تفصیلی معائنہ کیا جا رہا ہے۔
اس دریافت سے نہ صرف اس پرانے واقعے کے بارے میں نئی معلومات سامنے آنے کی امید ہے بلکہ فضائی حادثات کی تاریخ پر تحقیق کرنے والوں کے لیے بھی یہ ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ تحقیقاتی ٹیمیں اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ حادثے کے وقت اصل میں کیا تکنیکی خرابی پیش آئی تھی، جس کی وجہ سے طیارہ اپنے مقررہ راستے سے ہٹ کر اس حادثے کا شکار ہوا۔ پین أم کے اس تاریخی طیارے کے ملبے کی بازیابی نے دنیا بھر میں ہوا بازوں اور تاریخ دانوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے اور اسے گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی سمندری دریافتوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔