LIVE
Loading Breaking News...

چین اور امریکہ و یورپی یونین تجارتی مذاکرات، معاشی ماڈل پر نئی کشیدگی

News Image
چین کی جانب سے تجارتی مذاکرات میں سخت مؤقف اپنانے کے بعد عالمی معاشی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس پیش رفت سے عالمی سطح پر تکنیکی سپلائی چینز اور ڈیجیٹل کرنسی کے رجحان پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بیجنگ: چین نے امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ آئندہ تجارتی مذاکرات سے قبل اپنے اقتصادی اور معاشی ماڈل کے دفاع کے لیے واضح اور سخت سرخ لکیریں مقرر کر دی ہیں۔ ماہرین کے مطابق چین کا یہ مضبوط اور غیر لچکدار مؤقف آنے والے دنوں میں عالمی معاشی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کی منڈیوں پر پڑیں گے۔ اس تنازع کا براہ راست اثر ٹیکنالوجی کی سپلائی چینز اور عالمی سطح پر ڈیجیٹل کرنسیوں کے فروغ پر پڑنے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات میں پہلے ہی تناؤ پایا جاتا ہے، اور بیجنگ کی جانب سے کھینچی جانے والی یہ سرخ لکیریں اس بات کا غماز ہیں کہ چین اپنے تجارتی اور صنعتی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی اقتصادی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، خاص طور پر وہ کمپنیاں جو گلوبل سپلائی چین پر انحصار کرتی ہیں، انہیں شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب، اس معاشی ڈیڈ لاک کے درمیان ڈیجیٹل کرنسیوں کے فروغ اور ٹیکنالوجی کیپٹل مارکیٹس میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ مالیاتی ماہرین کا ماننا ہے کہ روایتی تجارتی راستوں میں رکاوٹیں اور ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی اقتصادی رسہ کشی ڈیجیٹل اثاثوں اور ڈیجیٹل کرنسی کی طرف منتقلی کو مزید تیز کر سکتی ہے۔ سرمایہ کار اس پوری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کے نتائج آنے والے مہینوں میں عالمی تجارت کی سمت کا تعین کریں گے۔