LIVE
Loading Breaking News...

ایرانی پٹرولیم انڈسٹری: پابندیوں کے باوجود ملکی مینوفیکچرنگ میں اضافہ

News Image
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سخت پابندیوں کے باوجود ایران کی پٹرولیم کیمیکل انڈسٹری نے زبردست ترقی کی ہے۔ تہران نے دباؤ کو ملکی سطح پر مینوفیکچرنگ اور خود کفالت کے ایک بڑے موقع میں بدل دیا ہے۔
گزشتہ کئی سالوں کے دوران امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے ایران کے پٹرولیم کیمیکل سیکٹر کو دباؤ میں لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی تھی۔ اس مقصد کے لیے کارپوریٹ بلیک لسٹنگ، بروکرز کی روک تھام اور ثانوی پابندیوں جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے تاکہ اس اہم صنعت کو مفلوج کیا جا سکے۔ تاہم، حالیہ رپورٹس اور اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مغربی ممالک کی یہ تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں اور اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ امریکہ اور اس کے حامیوں کی جانب سے لگائی جانے والی ان پابندیوں نے الٹا ایران کے لیے ایک نیا راستہ کھول دیا ہے۔ ایرانی ماہرین اور صنعتی اداروں نے بیرونی انحصار کو کم کرنے کے لیے ملکی سطح پر مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت تکنیکی چیلنجز پر قابو پایا گیا اور ملک کے اندر ہی ضروری صنعتی آلات اور کیمیکل مصنوعات کی تیاری کو یقینی بنایا گیا، جس سے ملکی معیشت کو ایک نیا سہارا ملا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی پابندیوں کے اس دباؤ نے ایرانی پٹرولیم کیمیکل انڈسٹری کو زیادہ خود کفیل بنا دیا ہے۔ ایران نے نہ صرف اپنی مقامی ضروریات کو پورا کرنا شروع کر دیا ہے بلکہ خطے اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ تجارت کو بھی برقرار رکھا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ سخت ترین پابندیاں بھی بعض اوقات متعلقہ ملک کو اندرونی طور پر مضبوط اور اختراعی بننے پر مجبور کر دیتی ہیں۔