World
غزہ پر اسرائیلی حملے اور ٹرمپ امن منصوبہ
اسرائیل نے غزہ میں اپنے حملوں کو تیز کرتے ہوئے کم از کم 19 افراد کو شہید کر دیا ہے، جبکہ حماس کے معاہدے پر رضامندی کے باوجود صیہونی جارحیت جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملے امن کوششوں اور جنگ بندی کے سمجھوتوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسرائیل نے غزہ پر اپنے مہلک حملوں میں شدید اضافہ کر دیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی فورسز کی حالیہ بمباری کے نتیجے میں کم از کم 19 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ طبی گوداموں اور رہائشی علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا امن منصوبہ زیر بحث ہے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ان تمام سفارتی کوششوں کو صریحاً ہوا میں اڑا دیا ہے۔
ادھر حماس نے اپنے ردعمل میں واضح کیا ہے کہ اسرائیل जानबूझ کر غزہ میں حملے تیز کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی یا امن معاہدے کو پٹری سے اتارا جا سکے۔ حماس کی طرف سے غیر مسلح ہونے کے معاہدے پر رضامندی ظاہر کیے جانے کے باوجود، اسرائیلی فوج کی جارحیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ تازہ ترین حملوں میں نہ صرف عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ طبی تنصیبات اور امدادی گوداموں کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے، جس سے محصور علاقے میں انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
عالمی برداری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ کی تازہ ترین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر ممالک کی طرف سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ تاہم، اسرائیلی حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے امن کی تمام کوششیں تعطل کا شکار نظر آتی ہیں، اور خطے میں خونریزی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔