LIVE
Loading Breaking News...

افغانستان میں طالبان کے پانچ سال اور انسانی حقوق کی صورتحال

News Image
ہیومن رائٹس واچ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کی حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ عالمی سطح پر افغانستان کو تنہائی کا سامنا ہے کیونکہ طالبان حکومت غیر جمہوری پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔
کابل: افغانستان میں طالبان کے اقتدار کو پانچ سال مکمل ہونے پر بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ایک تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اس میں مزید شدت آ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خواتین اور لڑکیوں کے خلاف پابندیوں نے افغان معاشرے کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے جہاں تعلیم، روزگار اور آزادانہ نقل و حرکت کے بنیادی حقوق بھی چھین لیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنی رپورٹس میں انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں روزمرہ کی زندگی پر کڑے قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں۔ حجاب کی جبری انسپکشن، سڑکوں پر نامناسب رویے، وارننگ لیٹرز اور سزاؤں کا یہ سلسلہ گزشتہ تین ماہ کے دوران مزید سخت ہو چکا ہے۔ عام شہریوں بالخصوص خواتین کو سخت سزاؤں کا سامنا ہے جس نے بین الاقوامی برادری کی تشویش کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ طالبان کی سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے افغانستان کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی برادری کا ماننا ہے کہ جب تک بنیادی انسانی حقوق بالخصوص خواتین کی تعلیم اور کام کے حق کو بحال نہیں کیا جاتا، تب تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ غیر جمہوری پالیسیوں اور پابندیوں نے افغان معیشت اور معاشرت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں کروڑوں افراد کو انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے۔