LIVE
Loading Breaking News...

ویسٹ ہیم کے کو-اونر ڈیوڈ سلیوان کو ہوم میچز سے دور رہنے کا مشورہ

News Image
لندن اسٹیڈیم کی انتظامیہ نے ویسٹ ہیم کے کو-اونر ڈیوڈ سلیوان کو شائقین کی ممکنہ بدامنی کے خدشات کے پیش نظر ہوم میچز میں شرکت سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ یہ سفارشات جنسی بدسلوکی کے الزامات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور شائقین کے غصے کے تناظر میں کی گئی ہیں۔
برطانوی فٹ بال کلب ویسٹ ہیم یونائیٹڈ کے کو-اونر ڈیوڈ سلیوان کو لندن اسٹیڈیم کی انتظامیہ کی جانب سے ایک اہم مشورہ دیا گیا ہے جس میں انہیں کلب کے ہوم میچز کے دوران اسٹیڈیم میں آنے سے گریز کرنے کا کہا گیا ہے۔ یہ سفارشات اس وقت سامنے آئیں جب کلب کے حلقوں میں شائقین کی جانب سے ممکنہ بدامنی اور شدید احتجاج کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ سارا تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ڈیوڈ سلیوان پر جنسی بدسلوکی کے سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے۔ ان الزامات کے منظر عام پر آنے کے بعد کلب کے حامیوں اور شائقین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شائقین کی جانب سے اس معاملے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے اسٹیڈیم کے اندر اور باہر امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیڈیم سیکیورٹی اور انتظامی حکام نے احتیاطی تدابیر کے طور پر یہ قدم اٹھایا ہے۔ لندن اسٹیڈیم انتظامیہ اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں نے کلب کی قیادت کے ساتھ اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ میچ کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے تمام تر ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ شائقین کے جذبات اور کلب کی ساکھ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ڈیوڈ سلیوان فی الحال ہوم میچز کے دوران اسٹیڈیم کا رخ کرنے سے گریز کریں۔ کلب انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر مزید لائحہ عمل کا اعلان جلد متوقع ہے۔ دوسری جانب فٹ بال کے حلقوں میں اس پیشرفت کو انتہائی تشویشناک نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ ویسٹ ہیم کے حامیوں میں پائی جانے والی بے چینی نے کلب کے انتظامی امور پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سنگین الزامات نہ صرف انتظامیہ کے لیے بلکہ پوری ٹیم کی کارکردگی اور مورال پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ کلب کے دیگر عہدیداران صورتحال کو قابو میں کرنے اور شائقین کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔