LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی انتخابات اور بنجمن نیتن ہیاهو کی سیاسی بقا کی جنگ

News Image
اسرائیلی عوام غزہ کی جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار اکتوبر میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کریں گے۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن ہیاهو کو اس الیکشن میں اپنی سیاسی بقا کے لیے شدید ترین چیلنجز کا سامنا ہے۔
اسرائیلی عوام رواں برس اکتوبر میں ملک کے انتہائی اہم اور فیصلہ کن عام انتخابات کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کریں گے۔ یہ الیکشن تاریخی نوعیت کے حامل ہیں کیونکہ غزہ میں جاری طویل جنگ کے بعد یہ اسرائیل میں ہونے والے پہلے عام انتخابات ہیں۔ ان انتخابات کے نتائج نہ صرف ملکی سیاست کا رخ بدل سکتے ہیں بلکہ خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن ہیاهو کو ان انتخابات میں اپنی طویل سیاسی زندگی کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ان کی حکومت کی پالیسیوں اور سکیورٹی اقدامات پر اندرون ملک شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اور متاثرہ خاندان جنگ کے انتظام اور سکیورٹی خامیوں پر نیتن ہیاهو کو کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہیں، جس سے ان کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن ہیاهو کے لیے یہ انتخابات ان کے سیاسی کیریئر کا آخری اور انتہائی مشکل معرکہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ وہ ماضی میں بھی انتہائی کٹھن سیاسی بحرانوں سے باہر نکلنے میں کامیاب رہے ہیں، تاہم اس بار جنگ کے اثرات اور عوام میں پایا جانے والا شدید غصہ ان کے لیے اقتدار بچانا تقریبا ناممکن بنا سکتا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران سکیورٹی، معیشت اور علاقائی استحکام سب سے اہم موضوعات ہوں گے۔ ووٹرز اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ موجودہ قیادت پر دوبارہ اعتماد کرتے ہیں یا پھر کسی نئے سیاسی متبادل کو منتخب کرتے ہیں۔ اکتوبر میں ہونے والے یہ انتخابات اسرائیل کے مستقبل اور خطے کی سیاست کا مستقبل طے کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔