World
اسرائیلی سپریم کورٹ میں انروا پر پابندی کے قانون کے خلاف سماعت
اسرائیل کی عدالت عظمیٰ نے مقبوضہ علاقوں میں اقوام متحدہ کے امدادی ادارے انروا کی کارروائیوں پر پابندی عائد کرنے والے قانون کے خلاف دائر آئینی چیلنج کی سماعت شروع کر دی ہے۔ یہ مقدمہ اس متنازع قانون کے قانونی اور آئینی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اسرائیل کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ نے اس متنازع قانون کے خلاف دائر کی گئی آئینی درخواستوں پر باقاعدہ سماعت شروع کر دی ہے جس کے تحت فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے 'انروا' (UNRWA) کی اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں میں تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس قانونی چیلنج میں عدالت کے سامنے اس امر کا احاطہ کیا جا رہا ہے کہ آیا یہ قانون ملکی و بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے یا نہیں۔ عدالت میں ہونے والی اس کارروائی کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس ادارے پر پابندی کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی متاثر ہو رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی پارلیمنٹ نے کثرت رائے سے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت انروا کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے یا اس کے دفاتر کے قیام پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس قانون کو بنانے کا مقصد تنظیم کے اثرورسوخ کو ختم کرنا تھا، تاہم اس اقدام کو عالمی برادری، اقوام متحدہ اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پابندی سے پہلے ہی بحران کے شکار خطے میں انسانی بحران مزید سنگین ہو جائے گا کیونکہ یہ ادارہ خوراک، تعلیم اور طبی سہولیات کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
اب جب کہ معاملہ اسرائیل کی عدالت عظمیٰ میں پہنچ چکا ہے، تو وکلاء اور انسانی حقوق کے حامیوں کو امید ہے کہ عدالت اس قانون کے مضمرات پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ سماعت کے دوران دونوں فریقین کی جانب سے اپنے اپنے دلائل پیش کیے جا رہے ہیں، جہاں ایک طرف ریاست کی سکیورٹی کے امور کا حوالہ دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف بین الاقوامی انسانی قانون اور پناہ گزینوں کے بنیادی حقوق کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں خطے کی سیاسی اور انسانی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔