LIVE
Loading Breaking News...

کیلیفورنیا یونیورسٹی کا یو ایس بارڈر پٹرول سے تعلقات ختم کرنے کا اعلان

News Image
طلباء کی شدید مخالفت اور احتجاج کے بعد کیلیفورنیا یونیورسٹی نے یو ایس بارڈر پٹرول کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ جامعہ میں اس گرانٹ اور تعاون پر ہونے والے تنازع کے بعد سامنے آیا ہے۔
کیلیفورنیا کی ایک نامور جامعہ نے طلباء کے شدید احتجاج اور دباؤ کے بعد یو ایس بارڈر پٹرول کے ساتھ اپنے طویل المدتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ریاستی سطح پر درجنوں پولیس فورسز اور تعلیمی ادارے اس گرانٹ سے مستفید ہوتے رہے ہیں، جن میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو (یو سی سان ڈیاگو) کے کیمپس پولیس بھی شامل ہیں جو تقریباً 2012 سے اس گرانٹ کو حاصل کر رہے تھے۔ حال ہی میں اس حوالے سے سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے بعد کیمپس میں طلباء کی جانب سے شدید ردعمل اور تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ رپورٹس کے منظر عام پر آنے کے بعد طلباء اور مختلف فیکلٹی ممبران نے یونیورسٹی انتظامیہ کے اس اقدام پر سخت تنقید کی تھی کہ وہ بارڈر پٹرول کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون جاری رکھیں۔ طلباء کا موقف تھا کہ اس قسم کے روابط سے جامعہ کے اندر تارکین وطن اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے طلباء میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ بڑھتے ہوئے احتجاج اور دباؤ کے پیش نظر یونیورسٹی کے ذمے داران نے صورتحال کا جائزہ لیا اور آخرکار اس متنازعہ تعاون سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ کیمپس کا ماحول پرامن اور تمام طلباء کے لیے سازگار رکھا جا سکے۔ اس فیصلے کو طلباء کی تنظیموں کی طرف سے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جنہوں نے طویل عرصے سے اس تعلق کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے طلباء کی آواز اور ان کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہیں، اور مستقبل میں ایسے کسی بھی معاہدے یا گرانٹ پر نظرثانی کی جائے گی جس سے کیمپس کے اندرونی سکون یا اقدار کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ اس پیش رفت کو ریاست کی دیگر جامعات کے لیے بھی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے جہاں اس طرح کے وفاقی یا سیکیورٹی اداروں کے ساتھ روابط پر بحث جاری ہے۔