Technology
سورج گرہن 2026: ناسا کا سورج اور کرہ ارض کے مطالعہ کا نیا منصوبہ
ناسا رواں سال 12 اگست کو لگنے والے سورج گرہن کے دوران سورج کے کرونا کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک خصوصی سائنسی مہم کا آغاز کرے گا۔ اس دوران فضا میں اونچائی پر پرواز کرنے والے طیارے اور غبارے زمینی ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے اعلان کیا ہے کہ وہ بارہ اگست 2026 کو لگنے والے سورج گرہن کے موقع پر ایک انتہائی اہم اور جامع سائنسی مہم چلائے گا۔ اس سائنسی مشن کا بنیادی مقصد سورج کے بیرونی ماحول یعنی کرونا کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا اور اس کے اسرار سے پردہ اٹھانا ہے۔ یہ اقدام سورج کی حرکیات کو سمجھنے میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ گرہن کے دوران سورج کی روشنی رکنے سے وہ تہیں واضح ہو جاتی ہیں جو عام حالات میں دیکھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
اس مہم کے تحت ناسا ایک خاص اونچائی پر پرواز کرنے والے تحقیقی طیارے کو استعمال کرے گا جو سورج کے کرونا کا طویل عرصے تک اور باریک بینی سے مطالعہ کرے گا۔ زمین سے عام طور پر سورج گرہن کا نظارہ چند منٹ کا ہوتا ہے لیکن اس فضا میں اڑنے والے طیارے کی مدد سے سائنسدان اس وقت کو بڑھا سکیں گے اور کرونا کی ساخت میں ہونے والی تبدیلیوں کا زیادہ دیر تک مشاہدہ کر سکیں گے۔
طیاروں کے علاوہ درجنوں سائنسی غبارے بھی اس مشن کا حصہ ہوں گے جو فضا کے نچلے حصے یعنی ایٹموسفیرک باؤنڈری لیئر میں سورج کی روشنی کم ہونے کے اثرات کا سراغ لگائیں گے۔ یہ غبارے ماحول کے درجہ حرارت، دباؤ اور ہوا کے دباؤ میں ہونے والی تبدیلیوں کا تفصیلی ڈیٹا اکٹھا کریں گے جس سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ سورج کی روشنی میں اچانک کمی زمین کے موسمیاتی نظام کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔
محققین کو امید ہے کہ اس بڑے پیمانے پر کی جانے والی سائنسی کوشش سے نہ صرف سورج کی طوائف اور مقناطیسی میدانوں کے بارے میں اہم معلومات ملیں گی بلکہ خلائی موسم کی پیشگوئی کے نظام کو بھی مزید بہتر بنایا جا سکے گا۔ ناسا کی یہ تحقیق مستقبل میں خلائی سفر اور زمین پر موجود مواصلاتی نظام کو سورج کی خطرناک شعاعوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی انتہائی مددگار ثابت ہوگی۔