Technology
نیکو روبوٹکس کا اے آئی روبوویڈر امریکہ اور آسٹریلیا میں متعارف
بنگلورو کی اسٹارٹ اپ کمپنی نیکو روبوٹکس نے اپنے جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی روبوویڈر کو امریکہ کے بعد اب آسٹریلیا میں بھی تجارتی طور پر پیش کر دیا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی کسانوں کو جڑی بوٹیاں تلف کرنے اور کیمیکل کے استعمال میں نمایاں بچت فراہم کرتی ہے۔
بنگلورو سے تعلق رکھنے والی معروف زرعی روبوٹکس کمپنی نیکو روبوٹکس (Niqo Robotics) نے اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں میں قدم رکھ دیا ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں اپنے پرچم بردار مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس 'روبوویڈر' (RoboWeeder) کو امریکہ میں تجارتی کامیابی کے بعد اب آسٹریلیا میں بھی متعارف کرا دیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ ہندوستانی زرعی ٹیک کمپنیاں اب عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں اور جدید زراعت کو ایک نئی سمت دے رہی ہیں۔
نیکو روبوٹکس کا یہ روبوٹ خصوصی طور پر کھیتوں میں غیر ضروری جڑی بوٹیوں کی درست شناخت اور ان کے خاتمے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹر وژن کی جدید صلاحیتوں سے لیس یہ مشین فصلوں کو نقصان پہنچائے بغیر انتہائی کم وقت میں صرف جڑی بوٹیوں کو ہدف بناتی ہے۔ روایتی طریقوں کے برعکس، جہاں پورے کھیت پر اندھا دھند اسپرے کیا جاتا ہے، یہ روبوویڈر کیمیکلز کے استعمال میں اسی سے نوے فیصد تک کی بچت کرتا ہے، جو کہ ماحول دوست زراعت کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔
کمپنی کے بانی اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کسانوں کو بڑھتی ہوئی لاگت اور ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، جس کا حل جدید ٹیکنالوجی میں مضمر ہے۔ امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اس ٹیکنالوجی کا کامیاب نفاذ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستانی جدت طرازی عالمی معیار پر پورا اترتی ہے۔ کمپنی مستقبل قریب میں اس ٹیکنالوجی کو دنیا کے دیگر خطوں تک پھیلانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ کسانوں کی پیداواری صلاحیت کو مزید بڑھایا جا سکے۔