LIVE
Loading Breaking News...

شائنی ہنٹرز جعلی سیکسٹورشن ای میل اور ڈیٹا بریچ

News Image
سائبر مجرموں نے شائنی ہنٹرز ہیکنگ گروپ کے نام سے جعلی ای میلز بھیج کر رقوم بٹورنے کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ یہ فراڈ کارنیول بریچ کے پرانے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے صارفین کو بلیک میل کرنے کی غرض سے کیا جا رہا ہے۔
وین پی نامی ایک شہری کو موصول ہونے والی ایک ای میل نے اس وقت ہوش اڑا دیے جب بھیجنے والے نے خود کو خطرناک ہیکنگ گروپ 'شائنی ہنٹرز' کا نمائندہ ظاہر کیا۔ ای میل میں دعویٰ کیا گیا کہ صارف کا انتہائی حساس ڈیٹا اور معلومات ہیکرز کے پاس محفوظ ہیں، اور اس کی رازداری برقرار رکھنے کے عوض دو ہزار ڈالر مالیت کی لائٹ کوائن کرنسی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس طرح کے پیغامات نہ صرف افراد کے لیے ذہنی پریشانی کا باعث بنتے ہیں بلکہ ڈیجیٹل سکیورٹی پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔ ماہرینِ سکیورٹی نے تحقیقات کے بعد انکشاف کیا ہے کہ یہ تمام ای میلز دراصل ایک بڑا فریب ہیں۔ شائنی ہنٹرز کا نام صرف خوف پھیلانے اور لوگوں سے بھتہ وصول کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس مہم کے پیچھے موجود دھوکے بازوں نے حال ہی میں ہونے والے 'کارنیول' ڈیٹا بریچ سے چوری شدہ معلومات اور ای میل ایڈریسز کا استعمال کیا ہے۔ ہیکرز یہ پرانا ڈیٹا استعمال کر کے متاثرین کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کا سسٹم یا ذاتی ڈیٹا براہ راست ہیک ہو چکا ہے۔ ماہرین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی کسی بھی ای میل کا جواب ہرگز نہ دیا جائے اور نہ ہی مانگی گئی رقوم کی ادائیگی کی جائے۔ اس طرح کے فراڈ کا مقصد محض نفسیاتی دباؤ کے ذریعے فوری طور پر ڈیجیٹل کرنسی بٹورنا ہوتا ہے۔ آن لائن سکیورٹی ایجنسیوں نے مشورہ دیا ہے کہ مشکوک پیغامات موصول ہونے پر فوری طور پر متعلقہ حکام کو مطلع کیا جائے اور پاس ورڈز کو تبدیل کر کے ٹو فیکٹر اتھینٹیکیشن کو فعال کیا جائے۔ ڈیجیٹل دنیا میں اس قسم کے سائبر حملے اور بھتہ خوروں کی کارروائیاں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔ عام صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ آن لائن اپنی ذاتی معلومات شیئر کرتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لیں۔ کسی بھی نامعلوم ذریعے سے ملنے والی دھمکی آمیز ای میل پر گھبرانے کے بجائے اس کی تصدیق کی جانی چاہیے تاکہ سائبر مجرموں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔