World
نیتن یاہو اور امن بورڈ کے ایلچی کی ملاقات، غزہ امن معاہدے پر گفتگو
امن بورڈ کے خصوصی ایلچی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی ہے جس میں غزہ میں ہتھیار ڈالنے کے معاہدے اور فضائی حملے فوری طور پر روکنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور ایک پائیدار امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
امن بورڈ کے ایک خصوصی ایلچی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے اہم ملاقات کی ہے جس کا بنیادی محور غزہ میں ہتھیار ڈالنے کے ایک نئے معاہدے اور فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر معطل کرنا تھا۔ اس سفارتی پیشرفت کا مقصد غزہ کے پٹی میں جاری طویل المدتی بحران کا کوئی قابل عمل حل تلاش کرنا ہے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ ملاقات کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ امن منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ غزہ سے فوج کا مکمل انخلا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کا کوئی حقیقی اور قابل تصدیق عمل سامنے نہیں آتا۔ دوسری جانب، بین الاقوامی مبصرین اور امن بورڈ کے نمائندے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دونوں اطراف کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ حملوں کا فوری خاتمہ اور انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی اس پورے امن عمل کی کامیابی کے لیے اولین شرط قرار دی جا رہی ہے۔
امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں بھی اس امن منصوبے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سابق امریکی صدر اور دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، تاہم اس بات پر اب بھی ابہام پایا جاتا ہے کہ آیا اسرائیلی افواج کا انخلا پہلے ہوگا یا حماس کی طرف سے غیر مسلح ہونے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ اس حوالے سے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ فریقین کو ایک متفقہ نکتے پر لایا جا سکے۔
آنے والے دنوں میں اس امن معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فریقین کتنی سنجیدگی سے مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں۔ عام شہریوں کی حفاظت اور خطے میں دیرپا استحکام کے لیے یہ ملاقات ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ دونوں جانب سے سیاسی عزم کا مظاہرہ کیا جائے۔