LIVE
Loading Breaking News...

بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر انتخابات اور وفاقی حکومت کے خلاف تحریک کا انتباہ

News Image
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ان کے زوال کا الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ دوسری جانب، مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے پیپلز پارٹی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انتخابی نتائج کو قبول کرنے پر زور دیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور نتائج میں ہیرا پھیری کے خلاف سخت گیر موقف اختیار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو براہ راست خبردار کیا ہے کہ اگر مینڈیٹ چرایا گیا تو ان کے اقتدار کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے انتخابی عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی خاموشی اور بے عملی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ جمہوریت میں عوام کا ووٹ سب سے مقدس امانت ہے اور اس پر ڈاکہ ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر عوامی فیصلے کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کی جماعت وفاقی حکومت کے خلاف بھرپور عوامی تحریک کا آغاز کرے گی۔ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابی نتائج کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور دونوں بڑی حلیف جماعتیں آمنے سامنے آ گئی ہیں۔ دوسری طرف، وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ن) کے ترجمان و رہنما عطا اللہ تارڑ نے پیپلز پارٹی کے تمام الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں پیپلز پارٹی پر زور دیا کہ وہ شکست تسلیم کرے اور انتخابی نتائج کا احترام کرتے ہوئے جمہوری روایات کو برقرار رکھے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ الیکشن کا عمل شفاف طریقے سے مکمل ہوا ہے اور اس قسم کے بے بنیاد الزامات سے سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس کشیدگی کے بعد وفاقی سطح پر دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان تعلقات میں مزید کھچاؤ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں ملکی سیاست پر گہرے مرتب ہوں گے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس معاملے پر آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے مشاورت شروع کر دی ہے تاکہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جا سکے۔