LIVE
Loading Breaking News...

سوات پولیس اسٹیشن خودکش دھماکہ، جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہو گئی

News Image
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 17 تک پہنچ گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے علاقے کا دورہ کر کے زخمیوں کی عیادت کی اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں کابل پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے ہلاکت خیز خودکش دھماکے کے بعد صورتحال کشیدہ لیکن قابو میں ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اتوار کے روز ہونے والے اس خودکش حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 17 ہو گئی ہے، جن میں پولیس اہلکار اور عام شہری دونوں شامل ہیں۔ سوات پولیس کے ترجمان ناصر اقبال کریمی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس دلخراش واقعے میں 7 پولیس اہلکار اور 10 شہری جاں بحق ہوئے جبکہ 18 پولیس اہلکاروں سمیت 27 افراد زخمی ہوئے۔ حملے کے فوراً بعد ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد پیر کے روز شہید ہونے والے دو پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ جواد اقبال شہید پولیس لائنز میں ادا کی گئی۔ جنازے کے دوران پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہید ہونے والے کانسٹیبل مکرم خان اور کانسٹیبل حسین خان کو سلامی پیش کی اور ان کے تابوتوں پر پھول چڑھائے گئے۔ اس موقع پر ملاکنڈ ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) اور ضلعی پولیس آفیسر (ڈی پی او) سمیت دیگر اعلیٰ پولیس حکام بھی موجود تھے۔ دوسری جانب، اس دہشت گردانہ واقعے کے خلاف سوات اور اپر سوات میں وکلاء نے مکمل ہڑتال کی اور عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا۔ کابل تحصیل میں بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جبکہ تاجروں، وکلاء اور مقامی عمائدین نے علاقے میں امن کی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔ اس دوران سوات قومی جرگہ اور دیگر تنظیموں کی جانب سے منگورہ کے نشاط چوک پر ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ واقعے کے تناظر میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے پیر کے روز ہنگامی طور پر سوات کا دورہ کیا۔ انہوں نے سیدو شریف کے شیخ زاہد النہیان اسپتال میں خودکش دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی اور اسپتال انتظامیہ کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ نے سیدو شریف کے جرگہ ہال میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت بھی کی، جہاں انہیں ملاکنڈ ڈویژن بالخصوص سوات میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت علاقے میں امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔