Technology
زمین کو خطرناک کشودرگر سے بچانے کا سائنسی منصوبہ
سائنس دانوں نے زمین کی طرف آنے والے خطرناک کشودرگر یعنی ایسٹرائڈز سے بچاؤ کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد خلاء میں ہی خطرناک چٹانوں کا رخ موڑنا یا انہیں تباہ کرنا ہے۔
خلائی سائنس دانوں اور ماہرینِ فلکیات نے زمین کی طرف بڑھنے والے خطرناک ہلاکت خیز کشودرگر یعنی ایسٹرائڈز کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک انتہائی اہم اور جامع دفاعی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ کائنات میں گھومنے والی یہ بڑی چٹانیں وقتاً فوقتاً زمین کے قریب سے گزرتی ہیں اور اگر ان کا رُخ ہمارے سیارے کی طرف ہو جائے تو یہ ناقابل تلافی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔ اسی خطرے کے پیش نظر دنیا بھر کی خلائی ایجنسیوں کے ماہرین نے مشترکہ طور پر ایسے جدید طریقوں پر کام شروع کر دیا ہے جن کی مدد سے وقت رہتے ان خطرناک اجسام کا راستہ روکا جا سکے۔
اس نئے سائنسی منصوبے کے تحت بنیادی طور پر دو اہم حکمت عملیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ پہلی حکمت عملی میں کائنیٹک امپیکٹر ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے، جس کے ذریعے ایک خلائی جہاز کو تیز رفتاری سے کشودرگر کے ساتھ ٹکرایا جاتا ہے تاکہ اس کا قدرتی راستہ تبدیل ہو جائے اور وہ زمین کے بجائے کسی دوسری سمت میں نکل جائے۔ ناسا اور دیگر خلائی اداروں نے ماضی میں اس ٹیکنالوجی کی چھوٹے پیمانے پر کامیابی سے آزمائش بھی کی ہے جو مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے امید کی ایک نئی किरण ثابت ہوئی ہے۔
دوسری حکمت عملی کے تحت نیوکلیئر ڈیوائسز یا لیزر بیمز کے استعمال پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ انتہائی بڑے سائز کے کشودرگر کو خلاء میں ہی چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا سکے یا ان کی رفتار کو سست کیا جا سکے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار میں خطرات زیادہ ہیں اس لیے اس کا استعمال آخری آپشن کے طور پر کیا جائے گا۔ اس تمام سائنسی تحقیق کا مقصد انسانیت کو کسی بھی ناگہانی آفت سے محفوظ رکھنا اور کائنات کے سربستہ رازوں کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنے سیارے کی بقاء کو یقینی بنانا ہے۔