LIVE
Loading Breaking News...

جامب کے نئے رجسٹرار کے لیے سابق وزیر تعلیم کا اہم مشورہ

News Image
سابق وزیر تعلیم پروفیسر چنوی اوباجی نے جوائنٹ ایڈമിഷنز اینڈ میٹرککولیشن بورڈ (JAMB) کے نئے رجسٹرار پر زور دیا ہے کہ وہ سابق رجسٹرار پروفیسر اسحاق اولویڈ کے قائم کردہ شاندار روایات اور ورثے کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے ایک ٹیلی فون انٹرویو کے دوران یہ اہم بات کہی کہ تعلیمی اداروں میں تسلسل کا برقرار رہنا ملک کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
سابق وزیر تعلیم پروفیسر چنوی اوباجی نے جوائنٹ ایڈമിഷنز اینڈ میٹرککولیشن بورڈ (JAMB) کے نئے رجسٹرار سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ادارے میں سابق رجسٹرار پروفیسر اسحاق اولویڈ کی جانب سے قائم کیے گئے اچھے ورثے اور اصلاحات کو ہر صورت جاری رکھیں۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تعلیمی حلقوں میں جامب کے انتظامی امور اور شفافیت کے حوالے سے کافی بحث جاری ہے اور ماہرین تعلیم اس ادارے کی کارکردگی کو سراہ رہے ہیں۔ ایک ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران پروفیسر چنوی اوباجی کا کہنا تھا کہ پروفیسر اسحاق اولویڈ کے دور میں جامب نے شفافیت، بروقت نتائج کے اجراء اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے جو تاریخی اقدامات کیے ہیں، وہ انتہائی قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے نئے آنے والے عہدیدار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ترقی کا دارومدار پالیسیوں کے تسلسل پر ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان کامیابیوں کو ضائع نہ ہونے دیا جائے بلکہ ان پر مزید عمارت تعمیر کی جائے۔ تعلیمی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے بھی سابق وزیر تعلیم کے اس مؤقف کی بھرپور تائید کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ جامب جیسے اہم قومی ادارے کو سیاست اور ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر چلایا جانا چاہیے۔ یاد رہے کہ پروفیسر اسحاق اولویڈ کے دورِ وزارت میں جامب نے امتحانات کے نظام میں ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کا جو استعمال شروع کیا تھا، اس سے امیدواروں اور والدین کو بے پناہ ریلیف ملا تھا اور کرپشن کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی۔ اب جب کہ ادارے کی قیادت نئے ہاتھوں میں منتقل ہو رہی ہے، پوری قوم اور تعلیمی برادری کی نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ نیا رجسٹرار ان کامیابیوں کو کیسے آگے بڑھاتا ہے۔ پروفیسر اوباجی کے اس بیان نے ایک بار پھر اس بحث کو تازہ کر دیا ہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات کی بقا کے لیے اداروں کے سربراہان کو کس قسم کی ذمہ داریوں کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ نظام شفاف اور عوام کے لیے سودمند رہ سکے۔