LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد ہائی کورٹ کا اضافی ٹول ٹیکس پر حکم امتناع میں توسیع کا فیصلہ

News Image
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے بغیر ایم ٹیگ اور کم بیلنس والی گاڑیوں پر پچاس فیصد اضافی ٹول ٹیکس وصول کرنے کے اقدام کے خلاف حکم امتناع میں توسیع کر دی ہے۔ عدالت اس معاملے پر مزید سماعت آئندہ تاریخ پر کرے گی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی جانب سے بغیر ایم ٹیگ اور کم بیلنس والی گاڑیوں پر پچاس فیصد اضافی ٹول ٹیکس وصول کرنے کے اقدام کے خلاف جاری حکم امتناع میں توسیع کر دی ہے۔ عدالتِ عالیہ کے اس فیصلے سے موٹر وے استعمال کرنے والے ہزاروں ایسے شہریوں کو عارضی ریلیف مل گیا ہے جن کی گاڑیاں ایم ٹیگ سے لیس نہیں ہیں یا جن کے اکاؤنٹس میں بیلنس کم ہوتا ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت میں این ایچ اے کی اضافی چارجز عائد کرنے کی پالیسی کے خلاف دائر درخواست پر تفصیلی بحث کی گئی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ اضافی وصولی مسافروں اور عام شہریوں پر اضافی مالی بوجھ کے مترادف ہے اور متعلقہ ادارے بغیر کسی قانون کے عوام سے بھاری جرمانے وصول کر رہے ہیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد حکم امتناع میں توسیع کا حکم جاری کیا۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا مؤقف رہا ہے کہ ایم ٹیگ کے استعمال سے ٹول پلازوں پر ٹریفک کی روانی بہتر ہوتی ہے اور لمبی قطاروں سے نجات ملتی ہے۔ تاہم، شہریوں اور ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ایم ٹیگ کے حصول میں درپیش مشکلات اور تکنیکی مسائل کے باعث ان پر اضافی پچاس فیصد ٹیکس عائد کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ عدالت اس مقدمے کی مزید سماعت اب آنے والے دنوں میں کرے گی جہاں فریقین اپنے مزید دلائل پیش کریں گے۔