LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران مذاکرات، خام تیل کی قیمتیں گر گئیں اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی

News Image
امریکہ کی جانب سے ایران پر مجوزہ حملے کو مذاکرات کے لیے مؤخر کرنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخوں میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ تیل کی قیمتیں گرنے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا جس کے نتیجے میں عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی۔
عالمی منڈی میں خام تیل کے فیوچر کنٹریکٹس میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے کیونکہ امریکہ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو فی الحال مؤخر کرتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکی انتظامیہ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تنازع کے پرامن حل کے لیے تہران کے ساتھ بات چیت کا عندیہ دیا ہے، جس کے بعد تیل کی مارکیٹ میں فوری طور پر مندی کا رجحان دیکھا گیا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کا براہ راست اثر عالمی مالیاتی منڈیوں پر پڑا اور سرمایہ کاروں نے سکھ کا سانس لیا۔ اس مثبت پیش رفت کے نتیجے میں ڈاؤ جونز انڈیکس اور دیگر بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں پانچ سو پوائنٹس سے زائد کا زبردست اضافہ ہوا، جو کہ ایک وسیع مارکیٹ ریلی کی عکاسی کرتا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی گرتی ہوئی قیمتیں عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی اور اس سے کاروباری سرگرمیوں کو بھی تقویت ملے گی۔ دوسری جانب، ایران کے ساتھ امن کی امیدیں بڑھنے سے حصص اور بانڈز کی مارکیٹوں میں بھی خریداری کا رجحان بڑھ گیا ہے جبکہ محفوظ سمجھی جانے والی کرنسیوں میں ردوبدل دیکھا گیا۔ سیاسی اور سفارتی محاذ پر ہونے والی اس پیش رفت نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بادل چھٹنے کی امید پیدا کر دی ہے، جس سے عالمی معیشت کے لیے ایک سازگار ماحول بنتا دکھائی دے رہا ہے۔