LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں مینوفیکچرنگ سرگرمیاں چار سال کی بلند ترین سطح پر

News Image
امریکہ میں مینوفیکچرنگ کی سرگرمیوں میں چار سال سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت (AI) کا فروغ ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی پیداواری لاگت اور ان پٹ قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت کے دوران، ملک میں مینوفیکچرنگ کی سرگرمیاں چار سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق امریکی مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (PMI) میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، جو کہ 55.6 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صنعتی شعبے میں یہ تیزی بنیادی طور پر جدید ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ہونے والے زبردست اضافے کی وجہ سے ہے۔ امریکی مینوفیکچررز اب چار سال کی بلند ترین شرح سے ترقی کی منزلیں طے کر رہے ہیں، جس نے مجموعی مارکیٹ کو بھی سہارا فراہم کیا ہے۔ تاہم، اس معاشی بہتری کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کے باوجود ان پٹ قیمتیں یعنی خام مال اور دیگر پیداواری لاگت کی قیمتیں اب بھی بلند سطح پر برقرار ہیں۔ اس صورتحال نے کاروباری حلقوں میں ملا جلا تاثر پیدا کیا ہے جہاں ایک طرف پیداوار میں تیزی کا رجحان ہے تو دوسری طرف بڑھتی ہوئی لاگت کاروباری منافع پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں کا اس طرح بلند رہنا سپلائی چین کے دباؤ اور مارکیٹ کی بدلتی ہوئی حرکیات کا عکاس ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں اور سرمایہ کاروں نے اس رپورٹ کو بڑی دلچسپی سے دیکھا ہے کیونکہ یہ امریکی معیشت کی مجموعی صحت کا احاطہ کرتی ہے۔ اس مضبوط کارکردگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں مدد دی ہے اور وال اسٹریٹ سمیت مختلف مارکیٹوں میں مثبت رجحانات دیکھنے میں آئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ اے آئی اور دیگر صنعتی عوامل کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہوا ہے، لیکن پالیسی سازوں کو مہنگائی اور ان پٹ لاگت کے دباؤ پر بھی کڑی نظر رکھنا ہو گی تاکہ طویل مدت میں اس ترقی کو مستحکم رکھا جا سکے۔