LIVE
Loading Breaking News...

وانا دھماکہ: جنوبی وزیرستان میں معروف مذہبی اسکالر مفتی جانامیر مستی خیل شہید

News Image
جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں رستم بازار کی ایک سپر مارکیٹ میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں معروف مذہبی اسکالر مفتی جانامیر مستی خیل جاں بحق ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ہلاکت خیز دھماکے میں پریشر بم کا استعمال کیا گیا تھا۔
جنوبی وزیرستان کے علاقہ وانا میں بدھ کے روز پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں معروف مذہبی اسکالر اور امن کے داعی مفتی جانامیر مستی خیل ایک زور دار دھماکے میں جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق دھماکہ وانا کے رستم بازار میں واقع ایک سپر مارکیٹ کی زمینی منزل پر ہوا، جس کے نتیجے میں علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ غالباً ایک پریشر بم کے ذریعے کیا گیا تھا جسے پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت وہاں نصب کیا گیا تھا۔ وانا سرکل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (DSP) اصغر علی شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکے کے بعد مفتی جانامیر کو شدید زخمی حالت میں فوری طور پر وانا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جراں برداشت نہ کرتے ہوئے راستے میں یا اسپتال میں دم توڑ گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی اصغر علی شاہ اور وانا سٹی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او عثمان وزیر بھاری نفری کے ساتھ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس لرزہ خیز کارروائی کا ہدف بظاہر یہی ممتاز عالم دین تھے۔ مفتی جانامیر مستی خیل نہ صرف ایک ممتاز مذہبی شخصیت تھے بلکہ وہ علاقائی اور قومی سطح پر امن کے قیام کے لیے ہونے والے مختلف جِرگوں میں بھی انتہائی فعال کردار ادا کرتے رہے تھے۔ 2004 کے فوجی آپریشنز کے بعد سے وہ وانا کے مختلف علاقوں میں امن کے فروغ کے لیے سرگرم عمل تھے۔ انہوں نے حال ہی میں ہونے والے وزیرستان امن جرگہ میں بھی بھرپور شرکت کی تھی جہاں انہوں نے علاقے میں پائیدار امن کے حصول اور قانون کی حکمرانی کے لیے اہم تجاویز پیش کی تھیں۔ انہیں ایک ایسی شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا جو ہمیشہ قومی مفادات اور علاقے کے روشن مستقبل کے لیے کوشاں رہے۔ واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان میں علمائے کرام اور مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی اس خطے میں اس قسم کے افسوسناک ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکے کے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں متعدد مذہبی رہنما جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ حالیہ لہر میں امن کے ان علمبرداروں کو نشانہ بنائے جانے سے مقامی آبادی اور کاروباری طبقے میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش اور اس دہشت گردانہ حملے کے محرکات جاننے کے لیے وسیع پیمانے پر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔