LIVE
Loading Breaking News...

ریٹائرمنٹ اور مالیاتی دباؤ: پندرہ لاکھ ڈالر بچت کے باوجود خرچ کرنے کا خوف

News Image
ایک پناس سالہ شخص کے پاس پندرہ لاکھ ڈالر کی بچت ہونے کے باوجود اپنے سرمائے کو خرچ کرنا انتہائی مشکل معلوم ہوتا ہے۔ ماہرینِ مالیات کا کہنا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد نفسیاتی رکاوٹوں پر قابو پانا کامیابی سے جینے کے لیے ضروری ہے۔
موجودہ دور میں ریٹائرمنٹ کے لیے خاطر خواہ رقم جمع کرنا ایک بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے، اور روایتی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بینک میں بڑی رقم کی موجودگی انسان کو ذہنی سکون دیتی ہے۔ تاہم، حال ہی میں سامنے آنے والے ایک دلچسپ اور فکر انگیز مالیاتی معاملے نے اس تصور کو نیا رخ دیا ہے۔ ایک چوناویں سالہ فرد نے، جن کے پاس پندرہ لاکھ ڈالر کی خطیر رقم جمع ہے، یہ انکشاف کیا ہے کہ وہ بظاہر مالی طور پر خود کو بہت امیر محسوس کرتے ہیں، مگر اس رقم کو خرچ کرنے کا خیال ہی ان کے اندر شدید پریشانی اور گھبراہٹ پیدا کر دیتا ہے۔ وہ اس تذبذب کا شکار ہیں کہ آیا اس حالت میں وہ وقت سے پہلے قبل از وقت ریٹائرمنٹ حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں۔ ماہرینِ مالیات اور فنانشل پلانرز کا کہنا ہے کہ یہ رجحان دراصل طویل مدتی بچت کرنے والے افراد میں بہت عام ہے۔ جب کوئی شخص اپنی پوری زندگی محنت کر کے، ایک ایک پائی جوڑ کر بڑا سرمایا اکٹھا کرتا ہے، تو اس کے ذہن میں جمع شدہ رقم کی حفاظت ایک فطری جبلت بن جاتی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچنے پر آمدنی کا کوئی باقاعدہ ذریعہ نہ ہونے کا خوف اس سوچ کو مزید گہرا کر دیتا ہے کہ کہیں جمع پونجی ختم نہ ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ پندرہ لاکھ ڈالر کی مضبوط پوزیشن کے باوجود، متعلقہ شخص کو روزمرہ کے اخراجات یا ذاتی خواہشات پر پیسے خرچ کرتے ہوئے ذہنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس قسم کے نفسیاتی اور مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ماہرین کچھ عملی تجاویز پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، ریٹائرمنٹ سے قبل ایک باقاعدہ 'ڈی اکومیوलेशन' یعنی خرچ کرنے کی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے، جس میں یہ طے کیا جائے کہ ہر سال کتنی رقم بلا خوف و خطر نکالی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، اگر کوئی شخص اپنی بنیادی ضروریات کے لیے ایک مستحکم پنشن یا انویسٹمنٹ ییلڈ پر انحصار کر رہا ہو، تو اصل سرمائے کو چھونے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ اس طرح کے خطوط پر سوچنے سے مالیاتی بے یقینی کا احساس کم ہو جاتا ہے اور ریٹائرمنٹ کا مرحلہ خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔