Technology
جرنی بیانڈ کی جانب سے کسٹمر سروسز میں ایجنٹک اے آئی کا نفاذ
آسٹریلوی سیاحتی کمپنی جرنی بیانڈ نے روایتی چیٹ بوٹس کے خطرات سے بچنے کے لیے ایجنٹک اے آئی کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجی کسٹمرز کو محفوظ اور زیادہ قابل اعتماد تجربہ فراہم کرتی ہے۔
آسٹریلیا کے مشہور تجارتی اور تجرباتی سیاحتی ادارے جرنی بیانڈ نے کسٹمرز کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے 'ایجنٹک اے آئی' یعنی خود مختار مصنوعی ذہانت کی طرف قدم بڑھا لیا ہے۔ کمپنی نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب روایتی بات چیت کرنے والے چیٹ بوٹس صارفین کے لیے مکمل طور پر قابل اعتماد اور محفوظ ثابت نہیں ہو رہے تھے۔ روایتی چیٹ بوٹس کی وجہ سے بعض اوقات گورننس اور ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے خطرات پیدا ہو رہے تھے جنہیں کم کرنے کے لیے ایک زیادہ جدید اور محفوظ نظام کی ضرورت تھی۔
نئے ایجنٹک اے آئی سسٹمز کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف پہلے سے طے شدہ جوابات دینے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پیچیدہ صورتحال میں خود فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جرنی بیانڈ کے مطابق، اس نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے سیاحوں کو سفری امور، بکنگ اور دیگر معلومات فراہم کرنے کے عمل کو نہ صرف تیز کیا گیا ہے بلکہ اس میں انسانی غلطی کے امکانات کو بھی کم سے کم کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسٹمر سروس کے شعبے میں روایتی چیٹ بوٹس کا دور اب ختم ہو رہا ہے اور کمپنیاں زیادہ ذہین ایجنٹس کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔ یہ ایجنٹ صارفین کے سوالات کو گہرائی سے سمجھتے ہیں اور کاروباری ضابطوں کے اندر رہتے ہوئے انتہائی مناسب حل تجویز کرتے ہیں۔ اس تبدیلی سے نہ صرف کمپنی کے اندرونی سسٹمز کو بہتر بنانے میں مدد ملی ہے بلکہ صارفین کا اعتماد بھی مزید مستحکم ہوا ہے۔
جرنی بیانڈ کا یہ قدم سیاحت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ آنے والے دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ دیگر عالمی ادارے بھی کسٹمرز کے ساتھ رابطے کے لیے اسی طرح کے جدید اور محفوظ ایجنٹک اے آئی ماڈلز کو اپنائیں گے تاکہ کاروباری خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔