LIVE
Loading Breaking News...

ایران پر حملہ منسوخ: تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی اور عالمی مارکیٹ کا ردعمل

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملہ منسوخ کرنے اور جوہری معاہدے کے ذریعے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی بہتری آئی اور سرمایہ کاروں میں پائی جانے والی تشویش میں کمی واقع ہوئی ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اور نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مجوزہ حملہ منسوخ کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے جوہری معاہدے کے امکانات کا روشن ہونا ہے۔ اس سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں، جس کا براہ راست اثر عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی پر پڑا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے اور تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستے کے محفوظ ہونے کی نوید ملی ہے۔ اس بین الاقوامی پیش رفت کے فورا بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا۔ وال اسٹریٹ سمیت دنیا بھر کی اہم اسٹاک مارکیٹوں میں ڈاؤ جونز، ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک کے فیوچرز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ بانڈ ییلڈز میں بھی کمی واقع ہوئی۔ سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کی جانب سے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے کیونکہ جنگی صورتحال کے خاتمے سے معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوئی ہے اور افراط زر کے خدشات میں بھی کمی آئی ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی بات چیت کا یہ سلسلہ کامیاب ہو جاتا ہے اور ایک پائیدار جوہری معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو عالمی توانائی کی منڈیوں میں مزید استحکام آئے گا۔ ایران پر پابندیوں میں نرمی اور تیل کی برآمدات کی بحالی سے سپلائی بڑھ گئی ہے، جس سے مستقبل قریب میں ایندھن کی قیمتوں میں مزید اعتدال آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔