LIVE
Loading Breaking News...

سُبیطہ سرحدی بحران: سینکڑوں نابالغ تارکینِ وطن مشکلات کا شکار

News Image
ہسپانوی قوانین کے تحت اکیلے آنے والے نابالغ بچوں کا تحفظ لازمی قرار دیا گیا ہے، تاہم سُبیطہ میں موجود بہت سے بچوں کو خوراک اور سر چھپانے کی جگہ تک میسر نہیں۔ سرحدی بحران کے باعث یہ نابالغ تارکینِ وطن انتہائی کسمپرس کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ہسپانیہ کے خود مختار شہر سُبیطہ میں سرحدی بحران کے نتیجے میں سینکڑوں نابالغ تارکینِ وطن شدید مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے بعد یہ کم عمر بچے سرحدی علاقے میں پھنس کر رہ گئے ہیں اور انہیں شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان بچوں کو بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے اور وہ کسمپرس کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ قانون کے مطابق ہسپانوی ریاست اکیلے سفر کرنے والے نابالغ بچوں کے تحفظ اور دیکھ بھال کی پابند ہے۔ اس کے باوجود زمینی حقائق انتہائی تشویشناک ہیں کیونکہ سُبیطہ میں موجود کثیر تعداد میں بچوں کو خوراک، صاف پانی اور مناسب رہائش جیسی بنیادی ضروریات میسر نہیں ہیں۔ امدادی تنظیموں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کمزور بچوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے。 تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں انتظامی دباؤ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے، جس کی وجہ سے کم عمر اور غیر همراه بچوں کی دیکھ بھال کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ اگرچہ حکام کی جانب سے صورتحال کو سنبھالنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن زمینی سطح پر متاثرہ بچوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ موجودہ وسائل ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس انسانی مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے ہسپانوی حکومت اور متعلقہ یورپی اداروں کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ جب تک ان بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں اور خوراک کا مستقل بندوبست نہیں کیا جاتا، اس وقت تک سُبیطہ کا یہ سرحدی بحران سنگین انسانی خطرات کی زد میں رہے گا، جس سے بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔