LIVE
Loading Breaking News...

سینیٹ کے باہر احتجاج پر مذہبی رہنما گرفتار

News Image
امریکہ میں ایران کے ساتھ جنگ اور ووٹنگ کے حقوق کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹ کے دفتر کے باہر احتجاج کرنے والے متعدد مذہبی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ مظاہرین اہم پالیسیوں پر حکومتی مؤقف کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔
واشنگٹن میں حکومتی پالیسیوں اور حالیہ سیاسی صورتحال کے خلاف آواز اٹھانے والے چند مذہبی رہنماؤں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سینیٹ کے دفتر کے باہر سے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ تمام افراد ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کی مخالفت کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے ووٹنگ کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ موجودہ حالات میں جنگی جنون کی بجائے عوامی فلاح اور جمہوری حقوق کی پاسداری کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ مظاہرے کے دوران صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب شرکاء نے سینیٹ کے احاطے کے قریب دھرنا دینے کی کوشش کی اور پولیس کی جانب سے انہیں منتشر کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ پولیس حکام کے مطابق، مظاہرین کو بارہا وارننگ دی گئی کہ وہ پبلک آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سینیٹ کے دفاتر کے داخلی راستوں کو بند کر رہے ہیں۔ تاہم، احکامات عدول حکمی پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پُر امن احتجاج کرنے والے کئی پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد سول سوسائٹی اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے اور حکومت کو اس طرح کی جبری کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ دوسری جانب، سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس گرفتاری سے ملک میں جاری سیاسی اور سماجی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بین الاقوامی امور پر عوامی سطح پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔