LIVE
Loading Breaking News...

سی ای اوز کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال اور مستقبل کی حکمت عملی

News Image
مقررین نے گلوبل پیٹر ڈرکر فورم کے دوران اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کو محض روایتی کاموں کی جگہ استعمال کرنے کی بجائے کاروباری حکمت عملی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ سی ای اوز کو چاہیے کہ وہ طویل مدتی وژن کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلوں میں اے آئی کو شامل کریں۔
سترہویں عالمی پیٹر ڈرکر فورم کے ایک خصوصی سیشن میں 'سی ای اوز کے لیے اے آئی گائیڈ' کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس اہم سیشن میں معروف اسکالرز اور مصنفین نے شرکت کی اور کاروباری رہنماؤں کے لیے مصنوعی ذہانت کے درست اور مؤثر استعمال پر روشنی ڈالی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ کاروباری اداروں کے سربراہان کو اے آئی کو صرف اخراجات کم کرنے یا روایتی کاموں کو تیز کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ بحث کے دوران اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ آج کے دور میں آٹومیشن کا سہارا لے کر مستقبل کی ذمہ داریوں سے فرار حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ٹیکنالوجی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور سی ای اوز کو چاہیے کہ وہ محض شارٹ کٹس ڈھونڈنے کی بجائے ایک پائیدار اور طویل مدتی حکمت عملی تیار کریں۔ اگر کمپنیاں صرف فیچرز اور وقتی فائدے کے لیے اے آئی اپنائیں گی تو وہ طویل المدتی مسابقت میں پیچھے رہ جائیں گی۔ مقررین نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کو بزنس ماڈل کا حصہ بنانے کے لیے لیڈرشپ کو اپنی سوچ میں تبدیلی لانا ہوگی۔ فیصلوں کے اندر انسانی بصیرت اور اے آئی کی صلاحیتوں کا توازن برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ صرف مشینوں پر انحصار کرنے کے بجائے تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہی اصل کامیابی کی ضمانت ہے، جو کہ کسی بھی ادارے کو مستقبل کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل بناتی ہے۔