LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کی ترقی میں بجلی کی قلت کا بحران

News Image
نامور ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ چپ کی کمی نہیں بلکہ بجلی کی شدید قلت ہے۔ اگر اس توانائی کے بحران پر قابو نہ پایا گیا تو مصنوعی ذہانت کا یہ موجودہ طوفان تھم سکتا ہے۔
موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی دنیا میں جس تیزی سے انقلاب آ رہا ہے، اس کے بارے میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سیمی کنڈکٹر چپس کی دستیابی اس کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ تاہم، معروف ماہرین معاشیات اور ٹیکنالوجی کے تجزیہ کاروں نے ایک نئے اور سنگین مسئلے کی نشاندہی کی ہے کہ اے آئی کے تسلسل میں اصل رکاوٹ چپس نہیں بلکہ بجلی کی بڑھتی ہوئی کھپت اور توانائی کا بحران ہے۔ دنیا بھر میں اے آئی سسٹمز، ڈیٹا سینٹرز اور بڑے لینگویج ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے جتنی زبردست کمپیوٹنگ پاور درکار ہوتی ہے، اس کے تناسب سے بجلی کی پیداوار ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ جوں جوں اے آئی کے ماڈلز بڑے اور پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، ان کے ڈیٹا سسٹمز کو چلانے کے لیے میگا واٹس نہیں بلکہ گیگا واٹس بجلی کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے موجودہ پاور سسٹمز اور گرڈز اس اضافی بوجھ کو اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اگر بڑی ٹیک کمپنیاں اپنے اے آئی انفراسٹرکچر کو اسی رفتار سے وسعت دیتی رہیں تو آنے والے دنوں میں توانائی کا ایک ایسا بحران پیدا ہو سکتا ہے جو نہ صرف ٹیکنالوجی کے اس شعبے بلکہ عام صارفین کے لیے بھی بجلی کی فراہمی کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ توانائی کے متبادل اور پائیدار ذرائع جیسے شمسی توانائی، ہوا اور خاص طور پر جوہری توانائی پر فوری توجہ دی جائے تاکہ اے آئی کی بڑھتی ہوئی بھوک کو پورا کیا جا سکے۔ بصورت دیگر، بجلی کی عدم دستیابی اور بڑھتی ہوئی لاگت وہ بنیادی عنصر بن سکتی ہے جو مصنوعی ذہانت کے اس تاریخی عروج کو روک دے گی اور اس کے پھیلاؤ کو شدید دھچکا پہنچائے گی۔